حفاظتِ قرآن
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۳۸
بعد کے زمانے میں لکھا ہوا قرآن ہی لوگوں کے لیے قرآن کو سیکھنے کا ذریعہ بن سکتا تھا، تاہم ایک مخطوطہرہ اب بھی تھا، مقدس کتاب میں انتہائی معمولی فرق بھی زبردست اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے یہ اندیشہ تھا کہ مختلف لوگ اگر اپنے اپنے طور پر قرآن لکھیں تو کتابت اور قرآت کا فرق مسلمانوں کے اندر زبردست اختلاف کھڑا کر دے گا اور اس کو ختم کرنے کی کوئی سبیل باقی نہ رہے گی۔ مثلاً سورہ فاتحہ میں ایک ہی لفظ کو محض ادائیگی کے فرق سے کوئی مالک یوم الدین لکھتا، کوئی ملیک یوم الدین اور کوئی ملک یوم الدین۔ پھر جیسے جیسے زمانہ گزرتا ، طرز تحریر اور رسم الخط کا فرق نئے نئے اختلاف پیدا کرتا چلا جاتا۔ اس لیے حضرت عمر کے مشورہ سے خلیفہ اول حضرت ابو بکر نے طے کیا کہ سرکاری اہتمام میں قرآن کا ایک مستند نسخہ لکھوا دیا جائے اور اختلاف قرآت کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔
اس کے لیے زید بن ثابت سب سے زیادہ موزوں شخص تھے ، کیونکہ وہ رسول اللہ کے کاتب (سکریٹری) تھے۔ زید اور ابی بن کعب دونوں "عرضہ اخیرہ" میں شامل تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست پورے قرآن کو نبوی ترتیب کے ساتھ سنا تھا۔ ان کو پورا قرآن مکمل طور پر یاد تھا اور اس کے ساتھ پورا قرآن مرتب طور پر لکھا ہوا بھی ان کے پاس موجود تھا۔ خلیفہ اول نے ان کو حکم دیا کہ تم قرآن کا تتبع کرو اور اس کو جمع کرو وفتبع القرآن فاجعماء ، بخاری) اس بات کے طے ہونے کے بعد حضرت عمر نے مسجد میں اعلان کر دیا کہ جس کے پاس قرآن کا کوئی خط موجود ہو، وہ لے آئے اور زید کے سامنے پیش کرے۔
خلیفہ اول کے زمانہ میں قرآن " کاغذ، یعنی چمڑے، پتھر اور کھجور کی چھال وغیرہ پر لکھا ہوا تو موجود تھا اور بہت سے لوگوں کے سینوں میں ، رسول اللہ سے سن کر، مرتب طور پر بھی محفوظ تھا۔ مگر وہ ایک کتاب کی طرح بین الدفتین اب تک جمع نہیں ہوا تھا۔ خلیفہ اول نے حکم دیا کہ اس کو بین الدفتین جمع کر دو اور اس کو ایک مجلد کتاب کی صورت میں یک جا کر دو :
وقال الحارث المحاسبی فی کتاب فہم السنن: حارث محاسبی فہم السنن میں لکھتے ہیں کہ قرآن کی کتابت كتابة القرآن ليست بمحدثة، فانه صلى الله کوئی نئی بات نہ تھی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو عليه وسلم كان يامر بكتابته ولكنه كان مفرقا لکھوایا کرتے تھے۔ مگر وہ رقاع اور اکتاف اور عسیب في الرقاع والاکتاف والعسب فانما امر الصديق میں متفرق طور پر لکھا ہوا تھا۔ ابوبکر صدیق نے اس کو بنسخها من مكان الى مكان مجتمعا وكان ذلك مرتب طور پر ایک جانکنے کا حکم دیا۔ اور یہ بمنزلہ ان اوراق بمنزلة اوراق وجدت في بيت رسول الله صلى الله کے تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پائے گئے عليه وسلم فانها نجمعها جامع وربط بخيط تھے۔ ان میں قرآن منتشر طور پر لکھا ہوا تھا۔ اسی کو حتى لا يضيع منها شئ جمع کرنے والے نے جمع کر دیا اور ایک دھاگے میں اس طرح الاتقان ، جلدا ، صفحه ۱۴
‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues