Al-Risala · January 1979 · page 39

حفاظتِ قرآن

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۳۹

عہد صدیقی میں جمع قرآن کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے پہلے قرآن '' جمع'' نہ تھا اور آپ کے زمانہ خلافت میں اس کو جمع کیا گیا۔ قرآن اس سے پہلے بھی مکمل طور پر جمع تھا۔ ''عرضہ اخیرہ '' میں متعدد صحابہ کو شامل کر کے آپ نے اس کی تصدیق و توثیق بھی فرمادی تھی۔ جمع قرآن کا یہ اہتمام صرف اس لئے ہوا کہ معمولی امکانی فرق کو بھی باقی نہ رہنے دیا جائے جو حافظہ یا کتابت میں فرق کی وجہ سے ہو سکتے تھے۔ مثال کے طور پر حضرت عمر نے زید بن ثابت کو یہ آیت سنائی : من المهاجرين والأنصار الذين اتبعوهم باحسان (توبہ ۱۰۰)

زید نے کہا مجھے تو یہ آیت جس طرح یاد ہے، اس میں انصار اور الذین کے درمیان ایک ”واؤ“ بھی ہے۔ چنانچہ تحقیق شروع ہوئی بالآخر مختلف لوگوں کی گواہیوں سے ثابت ہوا کہ زید کی رائے صحیح تھی۔ چنانچہ مصحف میں آیت کو واؤ کے ساتھ لکھا گیا۔

مولانا بحر العلوم شرح سلم میں لکھتے ہیں: قرآن کی یہ ترتیب جس پر وہ آج ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اس لئے کہ ان دس قاریوں نے جن کی قرآت اسلامی دنیا میں بالاتفاق مقبول ہے، صحیح سندوں سے جس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے، قرآن کو اسی ترتیب سے نقل کیا۔

زید بن ثابت نے جب پورا قرآن مرتب کر لیا تو ان کے مصحف کے علاوہ جتنے مختلف اجزاء اکٹھا ہوئے تھے، ان سب کو جلا کر ختم کر دیا گیا۔ یہ مجلد مصحف خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کے پاس رکھ دیا گیا۔ آپ کی وفات کے بعد وہ خلیفہ ثانی حضرت عمر کے پاس رہا۔ پھر آپ کی وفات کے بعد وہ حفصہ بنت عمرؓ کے پاس محفوظ رہا۔ حضرت عثمان کی خلافت کا زمانہ آیا تو اسلام بہت پھیل چکا تھا اور مسلمانوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی۔ اس وقت مختلف علاقوں کے مسلمانوں کے لئے قرآن سیکھنے کا ذریعہ وہ صحابہ تھے جو مدینہ سے نکل کر ممالک اسلامیہ میں ہر طرف پھیل گئے تھے۔ مثلاً اہل شام ابی بن کعب سے قرآن سیکھتے تھے۔ اہل کو فہ عبد اللہ بن مسعود سے اور اہل عراق ابو موسیٰ اشعری سے۔ تا ہم اختلاف لہجہ اور اختلاف کتابت کی وجہ سے دوبارہ لوگوں میں قرآن کے بارے میں اختلافات ہونے لگے حتی کہ ایک دوسرے کو کا فر کہنے لگے (کفر بعضهم بعضا، تبیان الجزائری)۔ ابن ابی داؤد نے کتاب المصاحف میں یزید بن معاویہ نخعی سے نقل کیا ہے کہ ولید بن عقبہ کے زمانہ میں ایک بار وہ کوفہ کی مسجد میں تھے ۔ حذیفہ بن الیمان بھی اس وقت مسجد میں موجود تھے۔ مسجد میں ایک حلقہ قرآن کے ذکر میں مشغول تھا۔ ایک شخص نے کوئی آیت پڑھی اور کہا: قرأۃ عبد اللہ بن مسعود۔ دوسرے نے اسی آیت کو کسی اور ڈھنگ سے پڑھا اور کہا قرأة ابی موسیٰ الاشعری۔ ۔ حضرت حذیفہ یہ سن کر غضب ناک ہو گئے۔ انھوں نے کھڑے ہو کر ایک مختصر تقریر کی اور فرمایا: هكذا كان من قبلكم اختلفوا، ، والله لا ركبن تم سے پہلے جو لوگ تھے، انھوں نے اسی طرح اختلاف کیا۔ إلى امير المؤمنين خدا کی قسم میں سوار ہو کر امیر المومنین (عثمان) کے پاس جاؤں گا۔

عمارہ بن غزیہ کی روایت کے مطابق حذیفہ بن الیمان واپس آئے۔ وہ ایک فوجی افسر تھے اور اس وقت آرمینیہ میں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page