Al-Risala · August 1979 · page 45

موت کے کنارے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۴۵

موت کے کنارے

آج وہ بے وقت مجھ سے ملنے آگیا تھا اور بہت کم میرے پاس کھہرا۔ خلافِ معمول اس نے چائے بھی قبول نہیں کی۔ "مجھے بہت جلد گھر پہنچنا ہے۔ وہاں میری بیوی میرا انتظار کر رہی ہوگی۔ " اس نے کہا اور اپنا اسکوٹر اسٹارٹ کرکے تیزی سے روانہ ہو گیا۔ اس کی واپسی کو مشکل آدھ گھنٹہ ہوا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اس کی بیوی گھبرائی ہوئی آواز میں بول رہی تھی "آپ کے دوست کا۔ ۔۔ " اس نے کہا۔ بنٹا ہراس کا جملہ ادھورا تھا۔ مگر اس کے رونے کی آواز نے اس کو پورا کر دیا۔ میں ٹیلی فون بند کرکے فوراً اس کے گھر کی طرف بھاگا۔ معلوم ہوا کہ اس کا انتقال ہو چکا ہے۔ مجھ سے رخصت ہو کر وہ اپنے گھر پہنچا۔ ابھی سیڑھیوں ہی پر تھا کہ لڑھک کر گر پڑا۔ لوگ اٹھاکر اندر لے گئے۔ فوراً ڈاکٹر بلایا گیا مُرنے آکر صرف یہ خبر دی کہ وہ اس دنیا سے جا چکا ہے۔

اسکوٹر پر سوار ہو کر وہ میرے یہاں سے روانہ ہوا تو بظاہر وہ اپنے گھر جا رہا تھا۔ مگر حقیقت وہ موت کی طرف جا رہا تھا۔ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں۔ اس طرح کے واقعات ہر روز اور ہر جگہ پیش آ رہے ہیں۔ ۲۷ مئی ۱۹۷۹ء کو امریکہ کا ایک ٹراچیٹ جہاز جس میں ۲۷۲ مسافر تھے، اوہر سے (O'Hare) ہوائی اڈے سے اُڑا۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ زمین پر گر گیا۔ جہاز سمیت سارے مسافر جل کر راکھ ہو گئے۔ یہ معاملہ چند انسانوں کا نہیں بلکہ یہی معاملہ تمام انسانوں کا ہے۔ سارے انسان جوز مین پر چلتے اور دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ سب موت کی طرف جا رہے ہیں۔ ہر آدمی سب سے زیادہ جس چیز کے قریب ہے وہ موت ہے۔ ہر آدمی موت کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔ ہر آدمی ہر آن اس خطرہ میں مبتلا ہے کہ اس کا آخری وقت آجائے اور وہ اچانک اس دنیا سے اٹھا کر اگلی دنیا میں پہنچا دیا جائے، جہاں سے کسی کو واپس نہیں آنا ہے۔ جہاں آدمی کے لیے یا تو جنت ہے یا جہنم۔

ایک اندھا آدمی چلتے چلتے کنویں کے کنارے پہنچ جائے تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو کنویں کے خطرہ سے آگاہ کیا جائے۔ حتی کہ ایسے نازک موقع پر آدمی قبلہ وکعبہ کی زبان اور خود صرف کے قواعد تک بھول جاتا ہے اور بے اختیار پکار اٹھتا ہے "کنواں کنواں"۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ساری انسانیت اس سے بھی زیادہ خطر ناک "کنویں" کے کنارے کھڑی ہوئی ہے۔ مگر ہر آدمی دوسرے دوسرے کاموں میں لگا ہوا ہے۔ کوئی شخص "کنواں کنواں" پکارنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی دیوانہ اس قسم کی پکار بلند کرے تو لوگوں کی طرف سے جواب ملتا ہے ۔ ۔۔ "یہ شخص قوم کو بزدلی کی نیند سلانا چاہتا ہے، وہ جہاد کے جذبہ کو ختم کر رہا ہے، وہ حقیقی مسائل سے لوگوں کو مٹا دینا چاہتا ہے، وہ زندگی کا پیغام ہر نہیں بلکہ موت کا داعی ہے۔ وہ مایوسی اور بے ہمتی کا سبق دے رہا ہے۔ "

لوگ کنویں کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ محفوظ مکان میں ہیں۔ لوگ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر خوش ہیں کہ وہ زندگی کا سفر طے کر رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page