Al-Risala · January 1979 · page 40

حفاظتِ قرآن

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۴۰

اہل شام سے و آذر بائیجان میں اہل عراق سے جنگ کر کے لوٹے تھے۔ وہ مدینہ پہنچے تو اپنے مکان جانے کے بجائے سیدھے خلیفہ ثالث کے پاس آئے اور کہا :

یا امیر المومنین ادرک ھذہ الامة قبل اے امیر المومنین لوگوں کو سنبھالئے ، قبل اس کے کہ لوگ ان يختلفوا في الكتاب اختلاف اليهود والنصاری کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف میں پڑ جائیں جس طرح یہود و نصاری اختلاف میں پڑ گئے حضرت عثمان کے زمانہ میں ایسی آبادیاں اسلام میں داخل ہوگئیں جن کی مادری زبان عربی نہ تھی۔ عربی الفاظ اور حروف کے صحیح تلفظ کی قدرت ظاہر ہے ان میں نہیں ہو سکتی تھی۔ خود عرب کے مختلف قبائل کے لہجے الگ الگ تھے۔ اس سے قرأت قرآن میں اختلاف پیدا ہوا۔ نتیجہ نقل و تحریر میں بھی اختلاف شروع ہو گیا ۔ ابن قتیبہ نے لکھا ہے کہ قبیلہ بنی ہذیل حتیٰ کو عتیٰ پڑھتا تھا۔ ابن مسعود اسی قبیلہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے حتّٰی عین کو عثّٰی غین پڑھتے تھے۔ قبیلہ بنو اسد تعلمون کی ت کو زیر کے ساتھ (تُعلمون) پڑھتا تھا۔ مدینہ کے لوگ تابوت کا تلفظ تابوہ کرتے تھے۔ قبیلہ قیس ک تانیث کا تلفظ ش سے کرتے تھے اور قرآنی آیت کو قد حجل ربش تختش سرا پڑھتے۔ اسی طرح قبیلہ تمیم ان کے لفظ کو عن کی شکل میں ادا کرتے تھے اور عسی اللہ عن یاتی بالفتح پڑھتے تھے۔ ایک قبیلہ س کو ت کی شکل میں ادا کرتا تھا اور اعوذ برب الناس ملک الناس الہ الناس پڑھتا تھا وغیرہ۔ ان حالات میں حذیفہ بن یمان صحابی کے مشورہ سے حضرت عثمان نے صدیقی نسخہ کی نقلیں تیار کرائیں اور تمام شہروں میں اس کا ایک ایک نسخہ بھیج دیا۔ یہ کام دوبارہ حضرت زید بن ثابت انصاری کی سرکردگی میں کرایا گیا اور ان کی مدد کے لئے گیارہ افراد مقرر کئے گئے۔ خلیفہ سوم کے حکم کے مطابق اس کمیٹی نے قرآن کو قریش کے لہجہ پر تحریر کیا جو کہ پیغمبر اسلام کا لہجہ تھا۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ دوسرے نسخے جو لوگوں نے بطور خود لکھے ہیں وہ ان کو حکومت کے حوالے کر دیں۔ چنانچہ ان کو جمع کر کے نذر آتش کر دیا گیا۔ اس طرح قرآن کو لکھاوٹ یعنی نوشت وکتابت کی حد تک ایک بنا دیا گیا۔ تاہم فطری اختلاف کی وجہ سے سارے لوگ ایک طرح قرآن کو پڑھنے پر قادر نہ ہو سکتے تھے۔ اس لئے لوگوں کو آزادی دے دی گئی کہ "سات ، طریقوں یعنی متعدد لب ولہجہ میں پڑھ سکتے ہیں۔ صدیقی اکبر کا جمع قرآن آنحضرت کی وفات کے ایک سال بعد انجام پایا تھا، عثمانی مصحف کی ترتیب آپ کی وفات کے پندرہ سال بعد ہوئی ۔

تیسری صدی کے مشہور صوفی اور عالم حارث محاسبی کا قول اتقان میں سیوطی نے نقل کیا ہے : المشہور عند الناس ان جامع القرآن عثمان وليس لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت عثمان جامع قرآن ہیں ، كذلك، انما حمل الناس علی القراۃ لوجہ واحد حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ لوگوں کو قرآن کی ایک قرأت پر جمع کر دیا۔

بعض لوگوں نے تفنن طبع یا عناد کے طور پر اس قسم کی باتیں مشہور کیں کہ حضرت عثمان نے قرآن میں تحریفات کر ڈالیں۔ مثلاً قرآنی آیت قفوھم انھم مسئولون (صافات) کے آخر میں عن ولایۃ علی کے الفاظ تھے، جنھیں عہد

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page