حفاظتِ قرآن
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۴۱
عثمانی میں بالقصد قرآن سے خارج کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ کچھ لوگوں سے یہ مضحکہ خیز بات مشہور کی کہ ولایت" کے نام سے ایک" مستقل سورہ قرآن میں تھی جس میں اہل بیت کے اسماء اور ان کے حقوق وغیرہ کا تفصیلی ذکر تھا۔ اس کو قرآن نے نکال دیا گیا، اس قسم کی باتیں قطعا بے بنیاد ہیں۔ ان علینا جمعہ (قیامہ) شیعہ وسنی دونوں کے نزدیک بالاتفاق قرآن کی آیت ہے۔ پھر قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہوئے کیسے کوئی شخص اس قسم کی بے بنیاد باتوں کو مان سکتا ہے۔ مشہور شیعی عالم علامہ طبرسی نے لکھا ہے :
الزيادة في القرآن مجمع عليه بطلانها ، واما قرآن میں اضافہ (شیعہ وسنی دونوں کے) اجماع سے النقصان فقد روى عن قوم من أصحابنا وعن قوم غلط ہے۔ باقی کمی تو بعض شیعوں سے اور غامہ کے حشویہ من حشوية العامة ، والصحيح خلاف ذلك (یعنی اہل سنت کے محدثین) سے اس کا دعویٰ منقول ہے۔ مگر صحیح یہ ہے کہ یہ بھی غلط ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کبھی بھی محققین نے اس قسم کے دعوے نہیں کئے ۔ یہ موقع پرستوں کے شوشے تھے جو انہوں نے سیاسی مقصد کے لئے وضع کئے۔ اہل بیت کی فضیلت کی ساری موضوعات اس لئے گھڑی گئیں تاکہ ان کے لئے خلافت کا استحقاق ثابت ہو جائے ۔ مثلاً ایک غیر معروف شخص محمد بن جہم لال تھے ۔ انھوں نے امام جعفر صادق کی طرف منسوب کرکے یہ مشہور کیا کہ قرآنی آیت امة هي اربي من امة (غل) میں تحریف کی گئی ہے۔ اصل الفاظ تھے ائمتنا هي ازکیٰ من ائمتکم (تفسیر روح المعانی مقدمہ) یعنی ہمارے بنی ہاشم کے ائمہ وحکمران بنی امیہ کے حکمرانوں سے بہتر ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا حضرت عثمان نے ۲۵ھ میں حفصہ بنت عمر کے پاس سے مصحف صدیقی منگوایا۔ اس وقت قرآن کے کاتب اول زید بن ثابت انصاری موجود تھے۔ ان کی رہنمائی میں آپ نے بارہ آدمیوں کی جماعت مقرر کی ۔ انھوں نے صدیقی نسخہ کی بنیاد پر قرآن کی سات نقلیں تیار کیں۔ پھر یہ نسخے تمام اسلامی ملکوں میں بھیج دیئے گئے۔ حضرت عثمان نے حکم دیا کہ اس کے سوا جتنے مصاحف لوگوں نے بطور خود لکھ لئے ہیں وہ سب جلا دیئے جائیں۔ ایک نسخہ انھوں نے دارالسلطنت مدینہ میں رکھا اور اس کا نام "الامام" رکھا اور بقیہ ہر گوشہ مملکت میں بھیج دیا۔ مکہ، شام، یمن، بحرین، بصرہ، کوفہ میں سے ہر جگہ ایک ایک نسخہ بھیجا ۔
یہ مصحف بعد کی صدیوں میں انتہائی صحت کے ساتھ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ دور پر نہیں میں پہنچ گیا جس کے بعد کسی ضیاع یا تغیر کا کوئی سوال نہیں۔ اس ابتدائی نسخہ کے ساتھ بعد کے نسخوں کی مطابقت کا کتنا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے ، اس کی دو چھوٹی سی مثال لیجئے ۔ سورہ مومنوں کی آیت ۱۰، میں قال (الف کے ساتھ) لکھا ہوا ہے یہی لفظ اسی سورہ کی اگلی آیت ۱۲ میں قل (بغیر الف) لکھا گیا ہے۔ گویا ابتدائی مصحف میں جو لفظ جس شکل میں لکھا ہوا تھا ٹھیک اسی طرح اس کو لکھا جاتا رہا۔ خواہ ایک ہی لفظ، دو جگہ دو املاء کے ساتھ کیوں نہ ہو۔ اسی طرح سورہ قیامہ کی آیت ” وقيل من کے بعد قاری تھوڑی دیر وقفہ کے لئے ٹھہرتا ہے۔ پھر راق“ پڑھتا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ہلکا وقف کیا تھا۔ قرآن میں اسی طرح کے دوسرے متعدد الہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues