جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۳
اے بنی اسرائیل میرے اس احسان کو یاد کرو جو میں نے تمھارے اوپر سیا اور اس بات کو کہ میں نے تم کو دنیا والوں پر فضیلت دی۔ اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ کام نہ آئے گی نہ اس کی طرف سے کوئی سفارش قبول ہوگی۔ اور نہ اس سے بدلے میں کچھ لیا جائے گا اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔ اور جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے چھڑایا۔ وہ تم کو بڑی تکلیف دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمھاری عورتوں کو جیتی رکھتے۔ اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے بھاری آزمائش تھی۔ اور جب ہم نے دریا کو پھاڑ کر تمھیں پار کرایا۔ پھر بچایا تم کو اور ڈوبادیا فرعون کے لوگوں کو اور تم دیکھتے رہے۔ اور جب ہم نے موسیٰ سے وعدہ کیا چالیس رات کا۔ پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ظالم تھے۔ پھر ہم نے اس کے بعد تم کو معاف کر دیا تا کہ تم شکر گزار بنو۔ اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور فیصلہ کرنے والی چیز۔ تا کہ تم راہ پاؤ۔ اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ اب اپنے پیدا کرنے والے کی طرف متوجہ ہو اور اپنے مجرموں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دو۔ یہ تمھارے لئے تمھارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہتر ہے۔ تو اللہ نے تمھاری توبہ قبول فرمائی۔ بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ اور جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ہم تمھارا یقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ کو سامنے نہ دیکھ لیں تو تم کو بجلی نے پکڑ لیا اور تم دیکھ رہے تھے۔ پھر ہم نے تمھاری موت کے بعد تم کو اٹھایا تا کہ تم شکر گزار بنو۔ اور ہم نے تمھارے اوپر بدلیوں کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا۔ کھاؤ ستھری چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا، وہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے ۔ ۵۰ - ۴۷، ۲ یہود کو اللہ تعالی نے تمام دنیا پر فضیلت دی تھی۔ یعنی ان کو اپنے اس خاص کام کے لئے چنا تھا کہ ان کے پاس اپنی وحی بھیجے اور ان کے ذریعہ دوسری قوموں کو اپنی مرضی سے باخبر کرے۔ پھر اس منصب کی نسبت سے ان کو اور بہت کی نعمتیں اور سہولتیں دی گئیں۔ اپنے دشمنوں پر غلبہ ، وقتی لغزشوں سے درگزر ، غیر معمولی حالات میں غیر معمولی نصرت اور " خداوند کی طرف سے ان کے لئے روٹی کا انتظام " وغیرہ ۔ اس سے یہود کی اگلی نسلیں اس غلط فہمی میں پڑ گئیں کہ ہم اللہ کی خاص امت ہیں۔ ہم ہر حال میں آخرت کی کامیابی حاصل کریں گے۔ مگر خدا کے اس قسم کے معاملات کسی کے لئے پشتینی نہیں ہوتے۔ کسی گروہ کے اگلے لوگوں کا فیصلہ ان کے پچھلے لوگوں کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر فرد کا الگ الگ ہوتا ہے۔ خدا کے انصاف کا دن اتنا سخت ہوگا کہ وہاں اپنے عمل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز کسی کے کام آنے والی نہیں۔
سچی دین داری یہ ہے کہ آدمی اللہ کے سوا کسی کو معبود نہ بنائے۔ اللہ کو دیکھے بغیر اللہ پر یقین کرے ۔ آخرت کے حساب سے ڈر کر زندگی گزارے ۔ پاک روزی سے اپنی ضروریات پوری کرے ۔ جن لوگوں پر اس کو اختیار حاصل ہے ان کو جرم کرنے سے روک دے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues