Al-Risala · September 1979 · page 24

جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۴

اور جب ہم نے کہا کہ داخل ہو جاؤ اس شہر میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو فراغت کے ساتھ اور داخل ہو دروازہ میں سرجھکائے ہوئے اور کہو کہ اے رب! ہماری خطاؤں کو بخش دے۔ ہم تمہاری خطاؤں کو بخش دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو زیادہ بھی دیں گے۔ تو انہوں نے بدل دیا اس بات کو جان سے کہی گئی تھی دوسری بات سے۔ اس پر ہم نے ان لوگوں کے اوپر جنہوں نے ظلم کیا، ان کی نافرمانی کے سبب سے آسمان سے عذاب اتارا۔ اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے کہا اپنا عصا پتھر پر مارو تو اس سے پھوٹ نکلے بارہ چشمے۔ ہر گرہم کو جو نے اپنا اپنا گھاٹ پہچان لیا۔ کھاؤ اور پیو اللہ کے رزق سے اور نہ پھر وزمین میں فساد مچانے والے بن کر۔ اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے۔ اپنے رب کو ہمارے لیے پکارو کہ وہ نکالے وہ اگاتا ہے زمین سے، ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز۔ موسیٰ نے کہا کیا تم ایک بہتر چیز کے بدلے ایک ادنیٰ چیز لینا چاہتے ہو۔ کسی شہر میں اتر و تو تم کو ملے گی وہ چیز جو تم مانگے۔ ہو اور ڈال دی گئی ان پر ذلت اور محتاجی اور وہ غضب الہیٰ کے مستحق ہوگئے۔ یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد پر نہ رہتے تھے۔ یوں ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو کوئی یقین لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور کام کیا نیک تو اس کے لیے اجر ہے اس کے رب کے پاس۔ اور ان کے لیے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ۵۸-۶۲ یہود پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی انعامات کیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ خدا کے شکر گزار بندے بنتے۔ مگر انہوں نے بالکل برعکس ثبوت دیا۔ ایک بڑا شہر ان کے قبضہ میں دے دیا گیا اور کہا گیا کہ اس میں داخل ہو تو فاتحانہ تمکنت سے نہیں بلکہ عجز کے ساتھ اور اللہ سے معافی مانگتے ہوئے۔ مگر وہ اس کے بجائے تفریحی کلمات بولنے لگے۔ ان کو من وسلوٰی کی قدرتی غذائیں دی گئیں تاکہ وہ معاشی جدوجہد سے فارغ رہ کر احکام الہیٰ کی بجا آوری میں زیادہ سے زیادہ مشغول ہوں مگر انہوں نے چٹپٹے اور مصالحہ دار کھانوں کا مطالبہ شروع کر دیا۔ انھوں نے دنیا میں ضرورت پر قناعت نہ کر کے لذت کی تلاش کی۔ ان کی بے حسی اتنی بڑھی کہ اللہ کی کھلی کھلی نشانیاں بھی ان کے دلوں کو پگھلانے کے لئے کافی ثابت نہ ہوئیں۔ ان کی تنبیہ کے لئے جو اللہ کے بندے اٹھے ان کو انھوں نے ٹھکرا یا حتی کہ قتل کر ڈالا۔ یہود میں یہ ڈھٹائی اس لئے پیدا ہوئی کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ وہ نجات یافتہ گروہ ہیں۔ مگر خدا کے یہاں نسلی اور گروہی بنیاد پر کوئی فیصلہ ہونے والا نہیں۔ ایک یہودی کو بھی اسی خدائی قانون سے جانچا جائے گا جس سے ایک غیر یہودی کو جانچا جائے گا۔ جنت اسی کے لیے ہے جو جنت والے عمل کرے نہ کہ کسی نسل یا گروہ کے لئے۔ زمین پر شکر، صبر، تواضع اور قناعت کے ساتھ رہنا زمین کی اصلاح ہے۔ اس کے برعکس ناشکری، بے صبری، گھمنڈ اور حرص کے ساتھ رہنا زمین میں فساد برپا کرنا ہے، کیونکہ اس سے خدا کا قائم کیا ہوا فطری نظام ٹوٹتا ہے۔ الرسائل ستمبر ۱۹۷۹

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page