جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۵
اور جب ہم نے تم سے تمھارا عہد لیا اور طور پہاڑ کو تمھارے اوپر اٹھایا۔ پکڑواس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی کے ساتھ ، اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھوتاکہ تم بچو۔ اس کے بعد تم اس سے پھر گئے۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ضرور تم ہلاک ہوجاتے۔ اور ان لوگوں کا حال تم جانتے ہو جو سبت (سینچر) کے معاملہ میں اللہ کے حکم سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہا کہ تم لوگ ذلیل بندر بن جاو۔ پھر ہم نے اس کو عبرت بنادیا ان لوگوں کے لئے جو اس کے روبرو تھے اور ان لوگوں کے لئے جو اس کے بعد آئے۔ اور اس میں ہم نے نصیحت رکھ دی ڈر والوں کے لئے 43 - 44 بائبل کی روایات بتاتی ہیں کہ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں جب یہود سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ خدائی تعلیمات پر ٹھیک ٹھیک عمل کریں گے تو " خدا نے پہاڑ کو ان کے اوپر الٹ کر خداوند ھاکر دیا اور ان سے کہا کہ توریت کو یا تو قبول کرو ورنہ یہیں تم سب کو ہلاک کر دیا جائے گا (تالمود) یہی معاملہ ہر اس شخص کا ہے جو اللہ پر ایمان لاتا ہے۔ ایمان لانا گویا اللہ سے یہ عہد کرنا ہے کہ آدمی کا جینا اور مرنا خدا کی مرضی کے مطابق ہوگا۔ یہ ایک بے حد سنگین اقرار ہے۔ اس میں ایک طرف عاجز بندہ ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ خدا ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں آسمان وزمین کی طاقتیں ہیں۔ اگر بندہ اپنے عہد پر پورا اترے تو اس کے لئے خدا کی لازوال نعمتیں ہیں۔ اور اگر وہ عہد کرکے اس سے پھر جائے تو اس کے لئے یہ شدید خطرہ ہے کہ اس کا خدا اس کو جہنم میں ڈال دے جہاں وہ اس طرح جلتا رہے کہ اس سے نکلنے کا کوئی راستہ اس کے لئے باقی نہ ہو۔
ایمانی عہد کے وقت حضرت موسیٰ کی قوم پر جو کیفیت گزری تھی وہی ہر بندہ مومن سے مطلوب ہے۔ ہر شخص جو اپنے آپ کو اللہ کے ساتھ ایمان کی رسی میں باندھتا ہے، اس کو اس کی سنگینی سے اس طرح چاہئیے گویا کہ اس نے اگر اس عہد کے خلاف کیا تو زمین و آسمان اس کے اوپر گر پڑیں گے، ایک گروہ جس کو اللہ کی طرف سے شریعت دی جائے اس کی گمراہی کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ عملاً اس کے خلاف چلے اور تاویلوں کے ذریعہ یہ ظاہر کرے کہ وہ عین خدا کے حکم پر قائم ہے۔ یہود کو یہ حکم تھا کہ وہ سینچر کے دن کو روزہ اور عبادت کے لئے مخصوص رکھیں۔ اس دن کسی قسم کا کوئی دنیوی کام نہ کریں۔ مگر انھوں نے اس حرمت کو باقی نہ رکھا۔ وہ دوسرے دنوں کی طرح سینچر کے دن بھی اپنے دنیوی کار و بار کرنے لگے۔ البتہ وہ طرح طرح کی لفظی تاویلوں سے ظاہر کرتے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ عین خدا کے حکم کے مطابق ہے۔ ان کی یہ ڈھٹائی اللہ کو اتنی ناپسند ہوئی کہ وہ بندر بنا دئے گئے۔ جب بھی آدمی شریعت سے انحراف کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو جانوروں کی سطح پر لے جاتا ہے جو کسی اخلاقی ضابطہ کے پابند نہیں ہیں۔ اس لئے جو لوگ شریعت کے ساتھ اس قسم کا کھیل کریں ان کو ڈرنا چاہئے کہ خدا کا قانون ان کو اسی حیوانی ذلت میں نہ مبتلا کر دے جس میں یہود اپنے اسی قسم کے فعل کی وجہ سے مبتلا ہوئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues