Al-Risala · September 1979 · page 26

جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۶

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو۔ انھوں نے کہا: کیا تم ہم سے ہنسی کر رہے ہو۔ موسیٰ نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں ایسا نادان بنوں ، انھوں نے کہا ، اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہم سے بیان کرے کہ وہ گائے کیسی ہو۔ موسیٰ نے کہا، اللہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو نہ بچہ۔ ان کے بیچ کی ہو۔ اب کر ڈالو جو حکم تم کو ملا ہے۔ انھوں نے کہا ، اپنے رب سے درخواست کرو ، وہ بیان کرے کہ اس کا رنگ کیا ہو۔ موسیٰ نے کہا، اللہ فرماتا ہے کہ وہ گہرے زرد رنگ کی ہو، دیکھنے والوں کو اچھی معلوم ہوتی ہو۔ انھوں نے کہا اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہم سے بیان کر دے کہ وہ کیسی ہو۔ کیوں کہ گائے میں ہم کو شبہ پڑ گیا ہے۔ اور اللہ نے چاہا تو ہم راہ پا لیں گے۔ موسیٰ نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہو کہ محنت کرنے والی نہ ہو، زمین کو جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی دینے والی نہ ہو۔ وہ سالم ہو، اس میں کوئی داغ نہ ہو۔ انھوں نے کہا: اب تم واضح بات لائے۔ پھر انھوں نے اس کو ذبح کیا۔ اور وہ ذبح کرتے نظر نہ آتے تھے۔ اور جب تم نے ایک شخص کو مار ڈالا ، پھر ایک دوسرے پر اس کا الزام ڈالنے لگے۔ حالاں کہ اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا جو کچھ تم چھپانا چاہتے تھے۔ پس ہم نے حکم دیا کہ مارو اس مردہ کو اس گائے کا ایک ٹکڑا۔ اس طرح زندہ کرتا ہے اللہ مردوں کو۔ اور وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ پھر اس کے بعد تمھارے دل سخت ہوگئے۔ پس وہ پتھر کی مانند ہوگئے یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ پتھروں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، بعض پھٹ پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو ۔ (۲۷ - ۷۲)

حضرت موسیٰ کے زمانہ میں بنی اسرائیل میں قتل کا ایک واقعہ ہوا۔ قاتل کا پتہ لگانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نبی کے واسطہ سے ان کو یہ حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کا گوشت مقتول پر مارو ، مقتول اللہ کے حکم سے قاتل کا نام بتا دے گا۔ یہ ایک معجزاتی تدبیر تھی جو چند مقاصد کے لئے اختیار کی گئی(۱) مصریوں کے اثر سے بنی اسرائیل میں گائے کے مقدس ہونے کا ذہن پیدا ہوگیا تھا۔ اللہ نے چاہا کہ اس واقعہ کے ذیل میں ان کے ہاتھ سے گائے کو ذبح کرا کے اس تقدس کو توڑا جائے (۲) یہ سبق دینا مقصود تھا کہ اللہ کی طرف سے جب کوئی حکم آئے تو اس کو سادہ معنوں میں لے کر فوراً اس کی تعمیل کر دو۔ اگر حکم کی تفصیلات اور حدود متعین کرنے کے لئے موشگافیاں کیں تو ایک سادہ حکم بھی شرائط کا اضافہ ہوتے ہوتے ایک سخت حکم بن جائے گا۔ (۳) اس واقعہ کے ذریعہ بنی اسرائیل کو بتایا گیا کہ اللہ کس طرح مرنے کے بعد آدمی کو زندہ کرکے دوبارہ اٹھائے گا۔

فطرت کا ہر واقعہ اللہ کی ایک نشانی ہے۔ اگر آدمی اللہ کی نشانیوں سے سبق لے تو اس کا دل نرم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ نشانیوں سے عبرت نہ پکڑے تو اس کا دل سخت ہوتا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔ - وہ اس قابل نہیں رہتا کہ ہدایت کی کوئی بات قبول کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page