Al-Risala · September 1979 · page 32

قرآن سے اپنے دلوں کو حرکت دو

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۲

جنتے ہو کہ مفلس کون ہے ۔ لوگوں نے کہا: ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ کوئی پونجی آپ نے فرمایا : میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزہ ، زکوٰۃ کے ساتھ آئے۔ مگر وہ اس حال میں آئے کہ اس نے کسی کو گالی دی ہے ، کسی پر تہمت لگائی ہے ، کسی کا مال کھایا ہے ، کسی کا خون بہایا ہے ، کسی کو مارا ہے۔ تو اس کی کچھ نیکیاں اس کو ، کچھ نیکیاں اُس کو دے دی جائیں گی۔ اور جب اس کی تمام نیکیاں ختم ہو جائیں گی اور ادائیگی باقی رہے گی تو دوسروں کی بُرائیاں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی اور پھر اس کو آگ میں جھونک دیا جائے گا (مسلم) مشکل وقتوں میں نماز کی طرف دوڑنا حذیفہ اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ غزوہ خندق میں ہماری تعداد تقریباً تین سو تھی۔ یہ ایک نہایت سخت رات تھی۔ اوپر کی جانب ابوسفیان اور ان کی فوج تھی۔ نیچے کی جانب بنو قریظہ تھے جن کی طرف سے ہم اپنے بال بچوں کو بالکل غیر محفوظ سمجھتے تھے ۔ بے حد شدید سردی تھی۔ اس کے بعد تیز ہوا چلنے لگی جس میں کڑک چمک تھی ۔ پتھر اُڑ اُڑ کر گر رہے تھے۔ اندھیرے کا یہ عالم تھا کہ کوئی چیز سجھائی نہ دیتی تھی۔ ایسے حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا کہ خندق کے پار مشرکین کے پڑاؤ کی طرف جاؤ اور ان کی خبر لاؤ کہ وہ واپس جانے کی باتیں کر رہے ہیں یا ابھی جمے ہوئے ہیں) میں لوگوں میں سب سے زیادہ ڈرنے والا تھا اور سردی بھی مجھ کو بہت لگتی تھی (انا من اشد الناس فزعنا د اشد هم قرا) مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پاکراٹھا۔ آپ نے میرے لئے حفاظت کی دعا فرمائی۔ میں اپنے مشن پر روانہ ہوا۔ اور ابوسفیان کی فوج میں گھوم پھر کر خبر لایا۔ وہ لوگ الرحیل الرحیل (واپس چلو واپس چلو) کہہ رہے تھے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ چادر اوڑھے ہوئے نماز میں مشغول تھے : وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا حز به رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ کوئی سخت امر صلي (البدايه والنہایہ جلد ۳)

معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھتے۔

قرآن سے اپنے دلوں کو حرکت دو

شعبہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو حمزہ نے بیان کیا۔ انھوں نے عبداللہ بن عباس رضی سے کہا کہ میں تیز پڑھنے والا آدمی ہوں ۔ بعض اوقات ایک ہی رات میں ایک بار یا دو بار پورا قرآن پڑھ لیتا ہوں۔ حضرت ابن عباس نے جواب دیا : ایک سورہ پڑھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے جو تم کرتے ہو۔ اگر تم کو پڑھنا ہے تو اس طرح پڑھو کہ تمھارے کان اس کو سنیں اور تمھارا دل اس کو لے سکے۔ پھر انھوں نے کہا: قرآن اس طرح پڑھو کہ اس کے عجائب پر پھیرو اور اس سے دلوں کو حرکت دو۔ تمھاری کوشش یہ نہ ہو کہ بس کسی طرح آخر سورہ تک پہنچ جاؤ (فاس اُقرأۃ تسمع اذنيك ويعيه قلبك، وتقو اعند عجائبه وحركوا به القلوب ولا يكن هم احدكم اخر السورة)

نماز آدمی کو اللہ کی حفاظت میں رکھتی ہے

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت منقول ہے۔ اس کا ایک جزء یہ ہے : لا تتركن صلاة مكتوبة فإن من ترك صلاة مكتوبة متعمداً ا فقد برئت منه ذمة الله (ترغيب وترہیب بحوالہ طبرانی) تم ہرگز

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page