دنیا طلبی خدا سے دور کرتی ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۳
کوئی فرض نماز نہ چھوڑنا۔ کیوں کہ جو شخص فرض نماز جان بوجھ کر چھوڑ دے تو وہ اللہ کی حفاظت سے نکل جاتا ہے نماز جمعہ کا مقصد اللہ کی قربت حاصل کرنا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے پہلے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو اجتماعی عبادت قائم کرنے کی بابت تحریری ہدایت روانہ فرمائی تھی۔ دار قطنی کی روایت کے مطابق اس کا ایک فقرہ یہ تھا : فاذا مال النہار عن شطرہ عند الزوال من یوم الجمعة فتقربوا الی الله تعالی برکعتین (جمعہ کے دن جب سورج نصف النہار سے ڈھل جائے تو دو رکعت نماز کے ذریعہ اللہ کی نزدیکی حاصل کرو)
دنیا طلبی خدا سے دور کرتی ہے
دنیا طلب علماء کی بابت ایک حدیث قدسی میں آیا ہے: ان ادنی ما انا صانع بهم ان انزع حلاوة المناجاة من قلوبهم زجاج بیان العلم وفضله ، جزء اول ، صفحه (۱۹۳) سب سے ادنی بات جو میں ان کے ساتھ کرنے والا ہوں وہ یہ کہ دعا کی مٹھاس کو ان کے دلوں سے چھین لوں۔
ان کی عبادت تھی سوچنا اور عبرت پکڑنا
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے سامنے سے دو بیل گزرے۔ دونوں پر بوجھ لدا ہوا تھا۔ ایک کھڑا رہا، دوسرا بیٹھ گیا۔ اس کو دیکھ کر ابو دردار نے کہا: اس میں بھی عبرت ہے (ان فی ھذن المعتبرا، صفة الصفوۃ، جلد اصفہ ۴۵۸) عون بن عبد اللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ میں نے ام الدرداء سے پوچھا کہ ابوالدرداء کا سب سے افضل عمل کیا ہوتا تھا۔ انھوں نے جواب دیا تفکر اور عبرت (التفکر والاعتبار، ابونعیم فی الحلیة) محمد بن واسع کہتے ہیں کہ ابو ذر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بصرہ سے ایک شخص آیا اور ام ذر سے ملا۔ اس نے پوچھا کہ حضرت ابو ذر کی عبادت کا حال بتائیے ۔ ان کی اہلیہ نے جواب دیاوہ اکثر سارے دن تنہا بیٹھے ہوئے غور وفکر کرتے رہتے تھے (کان اجمع النہار خاليای تفکر، ابونعیم) خشوع ظاہری آداب کا نام نہیں حضرت عائشہ رضی نے ایک بزرگ کو دیکھا۔ وہ بہت مضمحل حالت میں چل رہے تھے۔ آپ نے پوچھا ان کا کیا حال رہا۔ جواب دیا گیا یہ قراء میں سے ہیں (یعنی قرآن پڑھنے پڑھانے والے اور تعلیم و عبادت میں مشغول رہنے والے ہیں، یہ سن کر حضرت عائشہ رضی نے کہا: "عمر سید القراء تھے۔ مگر ان کا یہ حال تھا کہ جب چلتے تو زور سے چلتے۔ جب بولتے تو قوت کے ساتھ بولتے اور جب پیٹتے تو خوب پیٹتے "۔
جائز چیزوں سے روزہ رکھ کر ناجائز چیزوں سے افطار کرنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ دو عورتوں نے روزہ رکھا اور دونوں ساتھ بیٹھ کر دوسروں کی غیبت و شکایت کرتی رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بابت معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: انهما لم يصوما ۔ وكيف صام من ظل هذا اليوم ياكل ان دونوں نے روزہ نہیں رکھا۔ اس کا روزہ کیسے ہو گیا لحوم الناس (ابوداؤد، بیہقی)
جو روزہ رکھ کر لوگوں کے گوشت کھاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues