Al-Risala · September 1979 · page 34

ان کی عبادت تھی سوچنا اور عبرت پکڑنا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۴

ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں:

ان هاتين صامتا عما احل اللہ لهما وافطرتا ان دونوں عورتوں نے اس چیز سے روزہ رکھا جو اللہ علی ما حرم اللہ عليهما۔ جلست احداهما الی نے ان کے لئے حلال کیا تھا اور پھر دونوں نے اس چیز الاخری فجعلتا تا کلان من لحوم الناس سے افطار کر لیا جو اللہ نے دونوں کے لئے حرام کیا تھا۔ (ترغیب و ترہیب جلد ۳) ایک ان میں سے دوسری کے پاس بیٹھ گئی اور دونوں لوگوں کے گوشت کھاتی رہیں ۔

نماز کے بعد کچھ دیر نماز کی کیفیت طاری رہنا چاہئے ابو رمثہ رضہ کہتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے نماز پوری کر کے سلام پھیرا۔ ایک شخص جو شروع سے نماز میں شریک تھا۔ فورا سنت پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا۔ عمر فاروق رضہ کو دیکھ کر اس شخص کے پاس پہنچے اس کے مونڈھوں کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور کہا کہ بیٹھو ، اہل کتاب اسی لئے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا ، (یعنی ایک نماز ختم کر کے فوراً دوسری نماز شروع کر دیتے تھے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اوپر اٹھائی اور فرمایا: ابن خطاب ! اللہ کے تمھارے ذریعہ سے حق و ثواب تک پہنچایا (ابو داؤد) خدا کو سنانے کے لئے بلند آواز کی ضرورت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے سوال کیا : اقریب ربنا فنناجیہ ام بعید فننادیہ ہمارا رب ہم سے قریب ہے کہ اس سے ہم سرگوشی کریں یا دور ہے کہ ہم اس کو پکاریں۔ اس کے جواب میں قرآن میں آیت اتری: جب میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو ان کو بتا دو کہ میں ان سے قریب ہوں۔ پکارنے والا جب مجھ کو پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کو سنتا ہوں اور اس کا جواب دیتا ہوں ،، (بقرہ - ۱۸۶) صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری سے منقول ہے : رفع الناس اصواتهم بالدعاء فی بعض الاسفار، فقال لهم النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا ایھا الناس اربعوا علی انفسکم فانکم لا تدعون اصم ولا غائبا ان الذی تدعونه سمیع قریب ، اقرب الی احد کم من عنق راحلتہ ایک سفر میں دعا کے موقع پر لوگوں نے اپنی آوازیں بلند کیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو اپنے اوپر نرمی کرو کیوں کہ تم کسی بہرے یا غیر حاضر کو نہیں پکار رہے ہو ۔ تم جس کو پکار رہے ہو وہ سننے والا قریب ہے۔ وہ تمھاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تم سے قریب ہے۔

دین بے فائدہ ہے اگر اس کا مقصد دنیا حاصل کرنا ہو۔

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ تَعَلَّمَ عِلْماً مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، عز و جل لا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضاً مِنَ الدُّنيا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الجَنَّةِ يوم القيامة (ابو داؤد) حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ علم جس سے اللہ کی رضا چاہی جاتی ہے اس کو جس شخص نے دنیا حاصل کرنے کے لئے سیکھا تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page