ان کی عبادت تھی سوچنا اور عبرت پکڑنا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۵
اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت کو نہیں مانتے ایک چھپا ہوا پردہ کر دیتے ہیں۔ اور ان کے دلوں کے اوپر اوٹ رکھ دیتے ہیں کہ اس کو نہ سمجھیں۔ اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب قرآن میں تم اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک کر اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں (بنی اسرائیل: ۴۵-۴۶) زندگی کی دو صورتیں ہیں، ایک وہ زندگی جو خدا پرستی اور آخرت پسندی کے تحت ہے اور دوسری وہ جو خود پسندی اور دنیا پرستی کے تحت بنے۔ دونوں زندگیاں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہیں۔ ممکن ہے دونوں کے درمیان ظاہری طور پر زیادہ فرق نظر نہ آئے۔ مگر باعتبار حقیقت دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایک کے تحت آخرت رخی زندگی پیدا ہوتی ہے اور دوسرے کے تحت دنیا رخی زندگی۔ ایک صورت میں آدمی کا خدا اس کے اوپر غالب رہتا ہے اور دوسری صورت میں اس کا اپنا نفس۔ ایک اس فکر میں مبتلا ہوتا ہے کہ آخرت کے دن اس کی رسوائی نہ ہو اور دوسرے کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان اس کی عزت اور مقام محفوظ رہے۔ ایک اپنے خلاف تنقید سن کر اپنا احتساب کرنے لگتا ہے اور دوسرا اپنے خلاف تنقید سن کر بپھر اٹھتا ہے۔ ایک خدا اور رسول کے حکم کے آگے جھکنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور دوسرا خود اپنی ذات کو خدا اور رسول کے مقام پر رکھ دیتا ہے۔ ایک ظاہری دنیا سے گزر کر حقائق کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور دوسرا ہمیشہ ظاہری چیزوں میں اپنے کو الجھائے ہوئے ہوتا ہے۔ ایک کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ "حقیقت مجھ سے ماورا ہے اور مجھے اپنے آپ کو حقیقت کے مطابق بنانا چاہئے" اس کے برعکس دوسرا خود اپنے کو حقیقتِ اعلیٰ کا مقام دئے ہوئے ہوتا ہے، وہ اپنی ذات کو معیار حق سمجھتا ہے نہ کہ اپنے سے باہر کسی چیز کو۔
جو لوگ خود پسندی اور دنیا پرستی کی بنیاد پر اپنی زندگیاں بنائے ہوئے ہوں، ان کے سامنے جب بے لاگ حق کا پیغام آتا ہے تو ان کا عجیب حال ہوتا ہے۔ ان کی مخصوص نفسیات ان کے لئے ایک قسم کا روک بن جاتی ہے۔ حق کو ماننے میں ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے مفادات پر ضرب پڑ رہی ہے۔ ان کو اپنی دنیا ویران ہوتی نظر آتی ہے۔ ان کو ایسا لگتا ہے گویا حق کا اعتراف کرتے ہی ان کے سر سے برتری کا تاج اتر جائے گا۔ حق کو ماننا اپنی زندگی کے پورے ڈھانچہ کو بدلنے کے ہم معنی نظر آنے لگتا ہے۔ ایسے شخص کو محسوس ہوتا ہے کہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں تو میں عزت کامیابی کے تخت پر بیٹھا ہوا ہوں۔ اگر میں اس کو چھوڑ کر حق کا طریقہ اختیار کروں تو میں لوگوں کے درمیان بے حیثیت ہو کر رہ جاؤں گا۔ یہ نفسیات ایک قسم کا پردہ بن کر اس کے اور حق کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔ اپنی مخصوص ذہنی کیفیت کی وجہ سے وہ حق کو اس کی اصل صورت میں دیکھ نہیں پاتا اور اس کی آواز کو اس کی پوری معنویت کے ساتھ سن نہیں پاتا۔ اپنی اس نفسیات کے زیر اثر وہ حق کو نظر انداز کر دیتا ہے، کبھی شعوری طور پر اور زیادہ تر غیر شعوری طور پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues