Al-Risala · September 1979 · page 36

وہ آدمی جو اپنے رب پر راضی رہا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۶

وہ آدمی جو اپنے رب پر راضی رہا

انسان کو جب اس کا رب آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو انسان کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو سرفراز کیا۔ اور جب اس کو دوسری طرح آزما تا ہے اور اس کی روزی اس پر تنگ کر دیتا ہے تو انسان کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو بے قدر کر دیا۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے۔ اور محتاج کو کھانا کھلانے کی تاکید نہیں کرتے۔ اور مردہ کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ اور مال سے بے حد محبت رکھتے ہو۔ ہرگز نہیں، جب زمین توڑ کر ریزہ ریزہ کر دی جائے گی۔ اور آئے گا تیرا رب اور فرشتے آئیں گے قطار در قطار۔ اس دن جہنم سامنے لائی جائے گی۔ اس دن آدمی سوچے گا۔ مگر اب سوچنے کا موقع کہاں۔ وہ کہے گا۔ کاش میں نے اپنی زندگی کے لئے کچھ بھیج دیا ہوتا۔ اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔ اے اطمینان والی روح چل اپنے رب کی طرف۔ تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ پھر مل جا میرے بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں۔ (الفجر)

دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا رویہ جہنم کو یاد کر کے بنے۔ دوسرے وہ جن کا رویہ جہنم سے بے خوف ہو کر بنے۔ کون جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈر کر جی رہا ہے اور کون اس سے بے پروا ہو کر جی رہا ہے، اس کا اظہار زندگی کے معاملات میں ہوتا رہتا ہے۔ ہر بار جب زندگی کے مواقع میں سے کوئی موقع پیش آتا ہے تو آدمی اپنے رد عمل سے بتا دیتا ہے کہ دونوں میں سے کون سی حالت ہے جس میں اس کے صبح و شام گزر رہے ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو عزت اور دولت ملتی ہے تو ان کے اندر اپنی بڑائی کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ اس کے برعکس اگر انھیں تنگی اور سختی پیش آجائے تو وہ احساس کمتری کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک ساری اہمیت دنیا کی عزت اور بے عزتی کی ہے، وہ دنیا کے آرام اور تکلیف کو سب سے زیادہ قابل توجہ سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا سابقہ جب کمزور سے پیش آتا ہے تو اس کے ساتھ حقارت کا سلوک کرتے ہیں ۔ کیوں کہ اس کے پاس وہ چیز نہیں جو ان کی نظروں میں لحاظ کے قابل ہے۔ ان کے سامنے کوئی ضرورت مند آجائے تو اس کی ضرورت پوری کرنے کا جذبہ ان کے اندر نہیں بھڑکتا۔ ان کو دنیوی مال و متاع کی اتنی حرص ہوتی ہے کہ اخلاقی حدوں کو توڑ کر حرام و حلال کی تمیز سے آزاد ہو کر اس کو سمیٹنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ وہ اس قدر سخت دل ہو جاتے ہیں کہ کوئی شخص جو بزور اپنا حصہ وصول کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ ان سے اپنا حصہ پانے کی امید نہیں کر سکتا۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو قیامت سے پہلے قیامت کے اندیشوں سے کانپتے رہتے ہیں۔ کوئی معاملہ کرتے وقت ان کے اندر یہ سوچ ابھر آتی ہے کہ بات یہیں دنیا میں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ آخرت تک جاتی ہے۔ نعمت ان کے لئے شکر کا موقع ہوتا ہے اور سختی آتی ہے تو ان کے اندر صبر کا جذبہ جاگتا ہے۔ بے طاقت انسان کے پیچھے ان کو خدا اپنی طاقتوں کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ خدا کے یہاں اپنی بے عزتی کا اندیشہ ان کو روکتا ہے کہ وہ دنیا میں کسی پر قابو

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page