اربال ستمبر ۱۹۷۹ء
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۴
پا جائیں تو اس کو بے عزت کرنے کی کوشش کریں۔ ان کو کوئی بھوکا مل جاتا ہے تو اس کو کھلاتے ہیں تاکہ خدا انھیں آخرت کے دن کھلائے۔ وہ کسی ضرورت مند کو پالیتے ہیں تو اس کی ضرورت پوری کرتے ہیں تاکہ جب وہ خدا کے یہاں پہنچیں تو خدا ان کی ضرورتیں پوری کرے۔ ان کو ایک ایسا نفس حاصل ہوتا ہے جو ہر وقت خدا میں اٹکا ہوا ہو، جس کا ہر رویہ آخرت کی مصلحت کے تحت ظاہر ہو نہ کہ دنیا کی مصلحت کے تحت۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا سے راضی ہوئے، اس لئے خدا بھی ان سے راضی ہوگا۔ ان کے ہاتھ اور پاؤں خدا کے لئے رکے۔ ان کی زبان خدا کے لئے بند ہونگی۔ انھوں نے اپنے جی کو خدا کے لئے تھاما۔ انھوں نے اپنی مصلحتوں کو خدا کے لئے قربان کیا۔ وہ آسمان کی سطح پر جئے جب کہ دوسرے لوگ زمین کی سطح پر جی رہے تھے۔ یہی لوگ خدا کے سچے بندے ہیں۔ موجودہ دنیا کو توڑ کر جب نیا عالم بنے گا اور وہ خدا کے پاس پہنچیں گے تو خدا ان کو نہال کر دے گا۔ ان کو اپنے وفاداروں کے گروہ میں شامل کرے گا۔ ان کے لئے ان جنتی مکانوں کے دروازے کھول دے گا جو ابدی باغات میں بنے ہوں گے جہاں ہر قسم کی نعمتیں بے حساب مقدار میں جمع ہوئی جہاں نہ موت ہے اور نہ کوئی حادثہ۔ جہاں نہ غم ہے نہ تکلیف۔ جہاں نہ تھکان ہے اور نہ اکتاہٹ۔ آدمی اپنے رب کی اس لازوال دنیا کا باشندہ بن جائے گا جس کو دیکھے بغیر اس نے اپنی پوری زندگی کو اس کے اوپر ڈال دیا تھا۔ حافظ ابن عساکر نے حضرت امامہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا سکھائی : اللهم انی اسألك نفسابك مطمئنة تؤمن بلقائك وترضى بقضائك وتقنع بعطائك (اے اللہ میں تجھ سے ایسا نفس مانگتا ہوں جو تیرے اوپر مطمئن ہو، تجھ سے ملاقات کا یقین رکھتا ہو، تیرے فیصلہ پر راضی ہو۔ تیرے دئے ہوئے پر قانع ہو) جو شخص دنیا کی ناخوش گواریوں پر اللہ کے لئے راضی ہو جائے ، آخرت میں خوش گواریوں پر رضامندی اسی کے حصہ میں آتی ہے۔
نفس مطمئن کا مطلب غم سے پاک دل نہیں ہے بلکہ نفسیاتی گرہوں سے پاک دل ہے، مومن کی زندگی دنیا میں کبھی غم سے خالی نہیں ہوتی۔ اس کے لئے غم سے خالی زندگی کا مقام جنت ہے۔ مومن سے دنیا کی زندگی میں جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ دنیا میں وہ دنیا کے غم کو لے کر نہ جئے بلکہ آخرت کے غم کو لے کر جئے۔ دنیوی چیزوں کا حرص، کسی کے پاس دنیا زیادہ ہو تو اس سے جلنا اور کسی کے پاس دنیا کم ہو تو اس کو حقیر سمجھنا، خوشامد اور تعریف کرنے والوں سے خوش رہنا اور تنقید اور اختلاف کرنے والوں کو بری نظر سے دیکھنا۔ یہ چیزیں جس شخص کے اندر ہوں اس کا سینہ تاریکیوں سے بھر جاتا ہے۔ وہ منفی نفسیات کے اندھیرے میں بھٹکتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ دنیوی محرکات سے اوپر اٹھ جائیں، جن کا سینہ حرص، گھمنڈ، انانیت، نفرت، انتقام، خود پسندی اور بے انصافی سے خالی ہو، ان کے دل کو خدا کی طرف سے اطمینان و سکینت کا نور پہنچتا ہے۔ آخرت کی عظمت ان کے ذہن پر اس قدر چھا جاتی ہے کہ دنیا کی راحت اور تکلیف دونوں ان کو بالکل حقیر نظر آتی ہے۔ وہ اپنے مداح اور اپنے ناقد کو ایک نظر سے دیکھنے لگتے ہیں یہی نفوس مطمئنہ ہیں اور انھیں کے لئے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
اربال ستمبر ۱۹۷۹ء
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues