امت مسلمہ کا مقصد
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۸
امت مسلمہ کا مقصد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں اس لئے آئے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائیں۔ آپ کے بعد بھی آپ کے پیروؤں کا مشن بھی ہے (قل هذه سبیلی ادعوا الى الله على بصيرة انامن اتبعی ، یوسف :۱۰۸) قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی نظر میں سب سے زیادہ اہم معاملہ آخرت کا معاملہ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ موت سے پہلے آدمی اس حقیقت سے باخبر ہو جائے کہ اگر وہ اللہ والا بن کر نہیں مرا تو اس کے لئے خطرہ ہے کہ وہ ابدی بربادی کے جہنم میں دھکیل دیا جائے۔ موجودہ دنیا کے خاتمہ کے بعد جب اگلی دنیا بنائی جائے گی تو سارے لوگوں کا مقدمہ خدا کے یہاں پیش ہوگا۔ اس وقت لوگوں کے مستقل انجام کا فیصلہ کرنے کے لئے جو طریق عمل اختیار کیا جائے گا وہ یہ ہوگا کہ وہ داعیانِ حق وہاں گواہ بنا کر کھڑے کئے جائیں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ان قوموں تک اللہ کے دین کو پہنچایا تھا۔ پچھلے زمانوں کے لئے اُس زمانہ کے انبیاء گواہ بنیں گے۔ بعد کے زمانے میں جب کہ نبوت ختم ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا ہے کہ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر دین کی مکمل گواہی دے دی اور اس کے بعد اس امت کی یہ ذمہ داری قرار پائی کہ یہ قیامت تک دنیا کی قوموں کے اوپر دائی بن کر کھڑی رہے تاکہ آخرت کے دن وہ قوموں کے مقدمے میں اللہ کی گواہ بن سکے۔ پیغمبر جس طرح ہمارے اور خدا کے درمیان واسطہ ہے اسی طرح یہ امت پیغمبر اور قوموں کے بیچ میں کھڑی ہوئی ہے اور پیغمبر کی طرف سے بالواسطہ طور پر تمام قوموں تک دعوت پہنچانے کے لئے مامور ہے :
وكذلك جعلنكم امة وسطا لتكونوا شهداء اور اس طرح ہم نے بنا دیا تم کو بیچ کی امت تاکہ تم گواہ ہو على الناس ويكون الرسول عليكم شهیدا (بقره (۱۴۳) لوگوں پر اور رسول ہو گواہ تمھارے اوپر دوسری قوموں کے مستقبل کا انحصار اس پر ہے کہ وہ اللہ کے دین کو اپناتی ہیں یا نہیں۔ اسی طرح امت مسلمہ کا مستقبل تمام تر اس سوال پر معلق ہے کہ وہ اللہ کے دین کی گواہ بننے کے لئے اٹھتی ہے یا نہیں۔ جس طرح دوسری قوموں کی نجات کسی اور دین کو اختیار کر کے نہیں ہو سکتی ، اسی طرح امت مسلمہ کی نجات کسی اور میدان میں عمل کر کے نہیں ہو سکتی ، خواہ اس میں وہ کتنے ہی بڑے بڑے کارنامے دکھا رہی ہو۔ حتی کہ صرف نماز روزہ بھی اس کی نجات کے لئے کافی نہیں ہے حضرت یونس علیہ السلام کو جب مچھلی نے نگل لیا تو یہ " نماز روزہ " میں کو تاہی کی بنا پر نہ تھا۔ ان چیزوں میں آنجناب نے کبھی کوئی کمی نہیں کی تھی۔ ان کی کمی صرف یہ تھی کہ اپنی مدعو قوم پر دعوت کا حق ادا کرنے میں اجتہادی بنا پر ان کی طرف سے کوتاہی واقع ہوگئی۔ اتنی بات بھی اللہ کو پسند نہیں آئی۔ حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کی کامیابی، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، تمام تر اس پر منحصر ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کے لئے اٹھے اور اس کے تمام تقاضوں کے ساتھ اس کو انجام دے، بصورت دیگر اس کے لئے بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ امت مسلمہ کے ساتھ اللہ کے تمام وعدے اسی قیمت پر ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ اللہ کے یہاں بے قیمت ہو جائے گی ۔ خواہ کسی اور میدان میں بزم خود وہ کتنے ہی بڑے کارنامے بے دینی ہو۔ |
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues