امت مسلمہ کا مقصد
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۹
"معاشرہ" کا لفظ ایسے انسانی مجموعہ کے لئے بولا جاتا ہے جو فطری تنوع کے باوجود کسی خاص مشترک بندھن کے تحت یکساں حالات میں زندگی گزار رہا ہو۔ آج کی دنیا میں معاشرہ کے بہت سے نمونے پائے جاتے ہیں۔ روایتی معاشرہ، جس کا ایک نمونہ عیسائیت ہے۔ نسلی معاشرہ، جو یہود کے یہاں پایا جاتا ہے۔ سیاسی معاشرہ، جیسا کہ جمہوری نظاموں میں ہم دیکھتے ہیں۔ اسی طرح میکانیکی معاشرہ، جس کو ظہور میں لانے کی کوشش کمیونسٹ دنیا میں بہت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ معاشرہ کی ان تمام قسموں میں، ظاہری فرق کے باوجود، ایک چیز مشترک ہے۔ ان کو جو چیز ایک مخصوص اور متعین معنی دیتی ہے وہ خارجی اسباب ہیں۔ روایت، نسل، سیاسی اور قانونی ڈھانچہ، میکانیکی حالات سب خارجی چیزیں ہیں۔ گویا ان معاشروں کو معاشرہ بنانے والی چیز ان سے باہر کے عوامل ہیں نہ کہ خود ان کے اندر کے عوامل۔ اسلامی معاشرہ کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اسلامی معاشرہ افراد معاشرہ کے اپنے اندرونی محرک کے تحت ظہور میں آتا ہے۔ اسلامی معاشرہ کو جو چیز اسلامی معاشرہ بناتی ہے وہ کوئی خارجی ناگزیر یت نہیں بلکہ افراد کا اپنا اندرونی ارادہ ہے۔ وہ اپنے آزاد ارادہ کی طاقت سے اپنے آپ کو ایک خاص شکل میں ڈھالتے ہیں اور ارادی کوشش کے ذریعہ اس پر قائم رہتے ہیں۔ اسلامی معاشرہ کو کسی دوسرے معاشرہ کی مثال سے سمجھا نہیں جا سکتا۔ اسلامی معاشرہ، تمام دوسرے معاشروں کے برعکس، خوف خدائے واحد کا معاشرہ ہے۔ اسلامی معاشرہ وہ ہے جس کا ہر فرد، یا کم از کم اس کے افراد کی مؤثر تعداد، ایسے لوگوں پر مشتمل ہو جو ہر معاملہ میں صرف خدا کی خوشی اور ناخوشی کو دیکھتے ہوں۔ اس کے سوا دوسرے مصالح و محرکات ان کے لئے ناقابلِ لحاظ بن جائیں۔ خدا جو ساری کائنات کی اصل ہے، وہی اسلامی معاشرہ کی بھی اصل ہے۔ اسلامی معاشرہ خدا کے مرکزی عقیدہ کے گرد بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام خوبیاں اور کمالات "بیج روپ" میں عقیدہ خدا کے اندر موجود ہیں۔ حدیث میں کہا گیا ہے رأس الحكمة مخافة الله (اللہ کا خون حکمت کا سرا ہے) جب آدمی خدا کے عقیدہ کو اس کی صحیح شکل میں اختیار کرتا ہے تو تمام اعلیٰ اوصاف اس کے اندر سے آگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسلامی معاشرہ خدائی معاشرہ ہے۔ اور اسی لئے وہ مثالی معاشرہ بھی ہے۔ کیونکہ ہر قسم کے کمالات اور خوبیوں کا واحد سر چشمہ صرف خدا ہی کی ذات ہے۔ اس سے باہر کسی کمال کا کوئی وجود نہیں۔
اسلامی معاشرہ اصلاً افراد کی اسلامیت کا اجتماعی ظہور ہے۔ تاہم اس کو مسلسل برقرار رکھنے کے لئے باہمی نگرانی کا خصوصی حکم دیا گیا ہے جس کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہا جاتا ہے۔ اسلام اپنے افراد کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر خیر خواہانہ نظر رکھیں۔ اسلامی معاشرہ کے ہر فرد سے یہ مطلوب ہے کہ وہ دوسرے افراد کو بھلائی کی تلقین کرے اور برائی سے روکے۔ یہ کام اسی دل سوزی اور خیر خواہی کے ساتھ ہو جس طرح ایک باپ اپنے عزیز بچوں کی اصلاح کے لئے کرتا ہے۔ یہی چیز جب زیادہ منظم صورت اختیار کرتی ہے تو اسی کا نام اسلامی خلافت ہے۔ اسلامی معاشرہ افراد کے اندرونی احساس ذمہ داری کے تحت وجود میں آتا ہے اور نصیحت اور احتساب کا خارجی نظام اس کی حفاظت کرتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues