Al-Risala · September 1979 · page 40

زندگی سے دور، موت سے قریب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۰

موت کا سبق انسان کی محدودیت پوپ جان پال اول ۲۹ ستمبر ۱۹۷۸ء کو ویٹیکن میں انتقال کر گئے ۔ ان کی عمر ۶۵ سال تھی اور ان کو پوپ کے عہدے پر فائز ہوئے ابھی صرف ۳۳ دن ہوئے تھے۔ وہ دنیا بھر کے سات سو ملین کیتھولک عیسائیوں کے روحانی بادشاہ تھے۔ ۲۸ ستمبر کو ان کی صحت بالکل ٹھیک تھی۔ معمول کے مطابق رات کو وہ اپنی خواب گاہ میں گئے۔ اگلی صبح کو جب یہ مقررہ وقت پر اپنے کمرہ سے باہر نہیں نکلے تو ان کے سیکریٹری نے معلوم کیا۔ اس نے دیکھا کہ پوپ جان پال اول اپنے بستر پر مردہ پڑے ہوئے ہیں۔

کمرہ کی روشنی جل رہی تھی اور ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی جو کھلی ہوئی تھی ۔ اس سے اندازہ ہوا کہ رات کو وہ کتاب پڑھتے ہوئے اچانک ختم ہو گئے۔ آخر وقت میں ان کے ہاتھ میں جو کتاب تھی اس کا نام تھا: مسیح کی محدودیت (The Limitation of Christ)

زندگی سے دور، موت سے قریب

مسٹر ہیم رائے (۱۹۷۹ - ۱۹۲۳) ایک نہایت ذہین آدمی تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانہ میں انھوں نے حکومت ہند کے اشتہارات کے شعبہ میں مشیر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ وہ ترقی کرتے رہے اور ۱۹۶۲ میں کالگیٹ پامولیو میں منیجنگ ڈائرکٹر ہو گئے ۔ ان کے زمانہ میں کمپنی نے کانی ترقی کی ۔ ۱۹۷۰ء میں اس کمپنی کے حصہ داروں کی تعداد تیس ہزار ہو گئی اور وہ ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی قرار دے دی گئی ۔ مسٹر ہیم رائے کو جائز طور پر اس کا چیئر مین بنا دیا گیا ۔ اب موصوف ترقی کی چوٹی پر پہنچ چکے تھے۔ مگر چریں کی کرسی پر بیٹھے ہوئے ایک سال بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ ان کی موت کا وقت آگیا ۔ وہ تیرا کی کے شوقین تھے اور لمبی کے قریب اپنے فارم میں کبھی کبھی تفریح کے لئے جایا کرتے تھے ۔ ۲۱ جنوری کو وہ گوا گئے ۔ وہاں وہ سمندر کے ساحل پر تیرا کی کر رہے تھے کہ اچانک موجوں کی زد میں آگئے اور ڈوب کر مرگئے ۔ موت کے وقت ان کی عمر ۵۶ سال تھی (ٹائمز آف انڈیا ۹ فروری ۱۹۷۹ء)

یوم الحساب کا آنا ضروری ہے

مسٹر سی ۔ آر ۔ گوئل (دہلی) کا جوان لڑ کا ڈاکٹر راجندر گوئل ۲۷ مئی ۱۹۷۸ء کو ایک حادثہ کا شکار ہو گیا۔ وہ پوسا روڈ (دہلی) میں اپنے اسکوٹر پر جارہا تھا کہ سامنے سے آتی ہوئی ڈی ٹی سی بس اس سے ٹکرا گئی ۔ وہ فوراً مر گیا۔ اب اس کا مقدمہ عدالت میں ہے۔ ڈرائیور کا کہنا ہے کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ حادثہ کی وجہ یہ تھی کہ بس کا بریک فیل ہو گیا مقتول کے والد کا ایک خط ٹائمز آف انڈیا (۱۹ جون ۱۹۷۸ء) میں چھپا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

میرا نقصان ناقابل تلافی ہے۔ اب میری خواہش صرف اتنی ہے کہ اس قسم کے غیر ذمہ دار کو ضرور سزا ملے۔ وہ بچ کر نہ جاسکے ۔

ناکامی ناقابل برداشت

مسٹر دیا ساگر منن نے ایم ایس سی کیا۔ اس کے بعد انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل ریسرچ میں ڈاکٹریٹ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page