Al-Risala · September 1979 · page 41

پھولوں کا سفر آگ کا سفر بن گیا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۱

کے لئے داخلہ لیا۔ اس کا مضمون (Entomology) تھا۔ ابھی ان کی تعلیم مکمل نہیں ہوئی تھی کہ انھوں نے خود کشی کر لی۔ ۱۱ دسمبر ۱۹۷۹ء کو انسٹی ٹیوٹ کے ہاسٹل میں ان کا کمرہ کھولا گیا تو ان کا مردہ جسم ایک رسی کے پھندے میں پھنسا ہوا لٹک رہا تھا۔ خود کشی کے وقت ان کی عمر ۲۴ سال تھی ۔ مسڑمن کے ساتھیوں نے بتایا کہ دو مہینے پہلے ٹسٹ ہوا تھا اس میں اگر چہ اکثر مضامین میں ان کے نمبر اچھے تھے مگر آرگینک کیمسٹری میں ان کے نمبر کافی کم تھے، اس سے وہ بہت متاثر تھے۔ اندازہ ہے کہ اسی کی وجہ سے انھوں نے اپنی جان دے دی ۔

سے واپس نہ آ سکے۔ اگلے دن صرف ان کی لاش ملی ۔ کسی نامعلوم شخص نے ان کو خود ان کی ٹائی سے گلا گھونٹ کر مار ڈالا تھا۔ (۳۰ اپریل ۱۹۷۹)

آٹھ مہینے امریکہ میں قیام کرنے کے بعد وہ اپنے عزیزوں سے ملنے کے لئے گھر آنے والے تھے۔ وہ واپس آئے مگر اپنے منصوبے کے مطابق فرسٹ کلاس سیٹ پر بیٹھ کر نہیں بلکہ بوئنگ ۲۷۷ کے بیج میں جہاں ان کی لاش ایک تابوت میں بند کر کے رکھ دی گئی ۔ وہ جب پور پہنچے تو یہاں ان کے استقبال کے لئے ان کے عزیزوں کے مسکراتے ہوئے چہرے نہ تھے بلکہ حنا کی آگ تھی ۔ دوست اور عزیز ایک معمولی ناکامی آدمی کو اتنے شدید غم میں مبتلا کردیتی ہے ۔ اس وقت انسان کا کیا حال ہو گا جب وہ مکمل ناکامی اور ابدی ذلت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے گا۔

پھولوں کا سفر آگ کا سفر بن گیا

ستیہ نارائن گپتا (۱۹۷۹-۱۹۵۲) جے پور کے ایک جواہرات کا کاروبار کرنے والے خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ یہ خاندان افریقہ اور برازیل سے قیمتی پتھر درآمد کرتا ہے اور اس کو تیار کر کے دنیا بھر میں فروخت کرتا ہے مسٹر گپتا نے بی اے کیا اور قانون کی ڈگری لی۔ اب وہ امریکہ گئے تا کہ وہ اپنے برآمدی کاروبار کو مزید ترقی دے سکیں۔ امریکہ میں ان کو مستقل قیام کا ویزا ان کے گلے میں ہار ڈالتے۔ چنا نے بھی ان پر ہار ڈالے ۔ مگر یہ پھولوں کا نہیں بلکہ آگ کا ہار تھا۔ دوست اور عزیز اپنے محبوب کو جلتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ مگر وہ ان کے لئے کچھ نہ کر سکے۔ ۷۴ سال کے خوبصورت مسکراتے ہوئے چہرے کو آگ نے اس طرح نگل لیا جیسے کہ اس کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔ مسٹر گپتا کے مکان میں آگ لگتی تو فائر بریگیڈ کی گاڑیاں منٹوں میں اس کو بجھانے کے لئے پہنچ جاتیں۔ مگر یہاں خود مکان کا مالک جل رہا تھا اور کوئی نہیں تھا جو اس کو بچائے ، دوبارہ اس کو اس کے شان دار روپ میں کھڑا کر سکے۔

اچانک موت

موجودہ زمانہ میں حادثات کے ذریعہ اچانک موتیں بہت بڑھ (گرین کارڈ) مل گیا۔ ۱۰ مارچ کو وہ اسٹریٹ نمبر ۴۱ (نیو یارک) میں اپنے فلیٹ سے نکلے۔ ان کے ہاتھ میں ایک سوٹ کیس تھا جس میں ۱۰ لاکھ سے ۲۰ لاکھ تک مالیت کے جواہرات تھے۔ وہ نیو یارک کے ایک بڑے جوہری کے یہاں ان کے بلانے پر جا رہے تھے مگر وہ اس سفر الدسال ستمبر ۱۹۷۵ء کتی نہیں۔ ۲۷ مارچ ۱۹۷۷ء کو ٹینیر یف (Tenerife) کے ہوائی اڈہ پر رن وے پر دو جمبو جیٹ ٹکرا گئے ساس کے نتیجہ میں ۵۸۱ مسافر یک لخت جل کر مر گئے ۔ آدمی دنیا میں اس طرح رہتا ہے جیسے وہ مستقل جئے گا۔ حالانکہ وہ اچانک ایک روز اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔

اس

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page