Al-Risala · October 1979 · page 17

تو بہ وہی ہے جو سنجیدہ فیصلہ بن جائے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۷

انتقامی جذبہ کے تحت وہ اپنے بھائی کے خلاف کوئی کارروائی کر گزرے۔ اس قسم کے معاملات میں اپنے کو توبہ کی طرف لے جانا کسی آدمی کے لئے مشکل ترین جہاد ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن کا گھوڑا ایک بار بدک جائے تو پھر وہ واپس آنے کا نام نہیں لیتا۔ وہ بس مخالف سمت ہی میں دوڑتا رہتا ہے۔ کسی شکایت کے باعث اگر اس نے کسی کے خلاف ایک بار بری رائے قائم کرلی تو ہزار دلائل کے بعد بھی وہ دوبارہ اپنے ذہن کو صاف نہیں کرتا۔ اگر اس نے انتقامی جذبہ کے تحت کسی کو اجاڑنے کا اقدام کر دیا تو قرآن وسنت کی تمام تصریحات بھی اس کو اس اقدام سے روکنے والی ثابت نہیں ہوتیں۔ اگر کسی غلط فہمی کی وجہ سے کسی کے نقطہ نظر کی بابت ایک بار کوئی الٹی بات ذہن میں آگئی تو وہ دوبارہ ذہن سے نکلنے کا نام نہیں لیتی ۔ لوگوں نے توبہ کا ایک روایتی مفہوم بنا لیا ہے اور کچھ خاص طرح کی چیزوں کے بارے میں "توبہ توبہ" کر کے سمجھتے ہیں کہ انھوں نے توبہ کے بارے میں شریعت کے حکم کی تعمیل کرلی ، وہ توبہ کرنے والوں میں شامل ہو گئے۔ حالاں کہ وہ نازک مواقع جہاں اصلاً ان کی "توبہ" کا امتحان لیا جا رہا ہے وہاں وہ گناہ سے توبہ کے بجائے گناہ پر اصرار کو اپنا دین بنائے ہوئے ہیں۔ ایسی غلطی سے توبہ کرنا آسان ہوتا ہے جو صرف ایک غلطی ہو، اس کے ساتھ کوئی نفسیاتی پیچیدگی شامل نہ ہوئی ہو۔ مثلاً کسی وراثت کے ذریعہ آپ کے پاس کوئی ایسی زمین آگئی جو حقیقتاً غصب کی زمین تھی۔ ایسی زمین کو اس کے جائز مالکوں کی طرف لوٹانا بھی توبہ ہے۔ اس تو بہ کی راہ میں جو چیز حائل ہوتی ہے وہ صرف مفاد پرستی ہے اور اس کے مقابلہ میں اپنے کو تو بہ پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہے۔ مگر غلطی کی ایک اور قسم ہے اور یہ غلطی وہ ہے جب کہ اس کے ساتھ ضد اور انتقام کے جذبات شامل ہو جائیں ۔ مثلاً کسی کے پیغام کو رد کرنے کے بعد اس کی صداقت ظاہر ہونے پر دوبارہ اس کو ماننا ، کسی کے خلاف غصہ اور تلخی کی حالت میں کوئی اقدام کر دینے کے بعد اپنے اقدام کو واپس لینا ۔ کسی کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دینے کے بعد دوبارہ اس کا اعتراف کرنا۔ نفرت کے جذبہ کے تحت کسی کو نقصان پہنچا دینے کے بعد پھر اس کی تلافی کرنا، وغیرہ ۔ اس دوسری قسم کی توبہ آدمی کے لئے ہمیشہ مشکل ترین ہوتی ہے۔ مگر یہی وہ توبہ ہے جس سے آدمی اپنے رب کے قریب آتا ہے۔ اور یہی وہ قربانی" ہے جس کے بعد نصرتِ خداوندی کے دروازے اس کے لئے اس طرح کھول دئے جاتے ہیں کہ پھر کبھی بند نہیں ہوتے۔

تو بہ ، یعنی حق کے راستہ سے ہٹ جانے کے بعد دوبارہ حق کی طرف آنا، زندگی کے تمام معاملات سے تعلق رکھتی ہے۔ اور یہی ایمان واسلام کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ آدمی جب ایک بار کسی حق کا انکار کر دے تو خواہ اس کے حق میں کتنے ہی دلائل ظاہر ہوں وہ اس کو اپنے لئے عزت کا سوال بنا لیتا ہے ، وہ اس کی طرف لوٹنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔ ایسی حالت میں اپنی عزت کو خطرہ میں ڈال کر دوبارہ حق کی طرف لوٹنا ایک ایسا عمل ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے ۔ ایک شخص کسی کے خلاف ظلم کر بیٹھے اور حالات کی موافقت کی وجہ سے ظلم میں کامیاب ہو جائے تو اس کے بعد حقائق سامنے آنے کے بعد اپنی غلطی پر متنبہ ہونا اور اپنی برائی کی پروا نہ کرتے ہوئے صحیح رویہ کی طرف پلٹ آنا انسان کے لئے ایسی ترقیات کے دروازے کھولتا ہے جس کو کسی بھی دوسرے طریقے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues

Printed page