کون لوگ جہنم میں جائیں گے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۸
کون لوگ جہنم میں جائیں گے
جنت والے جہنم والوں سے کہیں گے، تم کو کس چیز نے جہنم میں پہنچایا۔ وہ جواب دیں گے ــ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ محتاج کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم بحث کرنے والوں کے ساتھ بحث کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ یہاں تک کہ آپہنچی ہم پر موت۔ (مدثر ۴۷ - ۴۲)
ان آیات میں چار چیزوں کو جہنم میں جانے کا سبب بتایا گیا ہے: نمازی نہ ہونا، محتاجوں کا سہارا نہ بننا، حق کی دعوت کے خلاف فضول بحثیں نکالنا، روز جز اکو نہ ماننا۔ اس کے برعکس انجام ان لوگوں کا ہوگا جنہوں نے اپنی زندگیوں میں نماز کو داخل کیا ہو، کم زور اور بے سہارا لوگ جن کے دلوں میں اپنے لئے نرم گوشہ پاتے ہوں، جن کا سینہ حق کی آواز کے لئے ہمیشہ کھلا رہتا ہو۔ جو یہ سمجھ کر دنیا میں زندگی گزارتے ہوں کہ ایک روز ان کو عالم الغیب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ ایسے لوگوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔ وہ خدا کے باغوں میں ہمیشہ کے لئے داخل کر دئے جائیں گے۔ نماز کیا ہے، اللہ کے آگے جھک جانا، اللہ کو اپنا سب کچھ بنالینا۔ جب آدمی اس طرح اپنے رب کو پالینا ہے تو وہ روزانہ پانچ وقت متعین صورت میں اور دیگر اوقات میں غیر متعین صورت میں "نماز" پڑھتا رہتا ہے۔ اللہ کی یاد اس کے دل میں سما جاتی ہے۔ وہ ہروقت اللہ کی باتوں میں ڈوبا رہتا ہے۔ اس کی پوری زندگی اور اس کے تمام معاملات میں اللہ کا رنگ اس طرح چھا جاتا ہے کہ کسی وقت اس سے جدا نہیں ہوتا۔
"محتاج کو کھانا کھلانا" اس تعلق کی ایک علامت ہے جو ایک بنوہ خدا کو دوسرے انسانوں سے ہونی چاہئے۔ ایمان آدمی کے اندر جو گھلاوٹ اور اخروی جواب وہی کا جو احساس پیدا کرتا ہے اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کمزوریں اور محتاجوں کے لئے اس کا دل نرم پڑ جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے ہمہ تن عاجز محسوس کرتا ہے اس لئے ہر دہ شخص جو اس کو عجز کی حالت میں نظر آئے، اس سے اس کو ہمدردی ہو جاتی ہے۔ وہ بے تابانہ طور پر چاہتا ہے کہ اس کا خدا اس کا سہارا بنے اس لئے اس کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ اس سے مختلف سلوک کرے جو وہ اپنے رب سے اپنے لئے چاہتا ہے۔
دعوت حق کے خلاف ایسی بحثیں نکالنا جس سے لوگ اس کی صداقت کے بارہ میں شبہ میں پڑ جائیں، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ دعوت حق کا ظہور دراصل خدا کا ظہور ہے۔ جو لوگ حق کی آواز کو نہ پہچانیں، انھوں نے گویا خدا کو نہیں پہچانا۔ جنھوں نے حق کی دعوت کے خلاف بحث وتکرار کی، انھوں نے گویا خدا کے ساتھ زبان درازی کی جرات کی۔ ایسے لوگوں پر خدا سخت غضب ناک ہوتا ہے۔ وہ خدا کی رحمتوں سے سب سے زیادہ دور کر دئے جاتے ہیں۔
روز جزا کا یقین تمام نیکیوں کا سب سے بڑا محرک ہے۔ اور روز جز ا پر یقین نہ ہونا تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے۔ جنت اس کے لئے ہے جو دنیا میں اس طرح رہے گویا کہ دہ آخرت کو دیکھ رہا ہے اور جہنم اس کے لئے جو دنیا میں اس طرح زندگی گزارے گویا کہ وہ آخرت کو کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتا۔ وہ دنیا کو اپنی دنیا سمجھتا ہے نہ کہ خدا کی دنیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues