Al-Risala · October 1979 · page 23

جب اعمال اکارت ہو جائیں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۳

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کلام پر ایمان لاؤ جو اللہ نے اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہمارے اوپر اترا ہے۔ اور وہ اس کا انکار کرتے ہیں جو اس کے پیچھے آیا ہے۔ حالاں کہ وہ حق ہے اور سچا کرنے والا ہے اس کا جو ان کے پاس ہے۔ کہو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم اللہ کے پیغمبروں کو اس سے پہلے کیوں قتل کرتے رہے ہو۔ اور موسیٰ تمہارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا۔ پھر تم نے اس کے پیچھے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تم ظلم کرنے والے ہو۔ اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور کوہ طور کو تمہارے اوپر کھڑا کیا۔ جو حکم ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور سنو۔ انھوں نے کہا: ہم نے سنا اور ہم نے نہ مانا۔ اور ان کے کفر کے سبب سے بچھڑا ان کے دلوں میں رچ بس گیا۔ کہو اگر تم ایمان والے ہو تو کسی بری ہے وہ چیز جو تمھارا ایمان تم کو سکھاتا ہے۔ کہو اگر اللہ کے یہاں آخرت کا گھر خاص تمھارے لئے ہے دوسروں کو چھوڑ کر تو تم مرنے کی آرزو کرو اگر تم سچے ہو۔ مگر وہ کبھی اس کی آرزو نہیں کریں گے بہ سبب اس کے جو وہ اپنے آگے بھیج چکے ہیں۔ اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو۔ اور تم ان کو زندگی کا سب سے زیادہ حریص پاؤ گے، ان لوگوں سے بھی زیادہ جو مشرک ہیں۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ ہزار برس کی عمر پائے۔ حالاں کہ اتنا جینا بھی اس کو عذاب سے بچا نہیں سکتا۔ اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔ ٩١-٩٤ یہود جو قرآن کی دعوت کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے، اس کی وجہ ان کا یہ احساس تھا کہ وہ پہلے سے حق پر ہیں اور حق پرستوں کی سب سے بڑی جماعت (اسرائیل) سے وابستگی رکھتے ہیں۔ مگر یہ دراصل گروہ پرستی تھی جس کو انھوں نے حق پرستی کے ہم معنی سمجھ رکھا تھا ۔ وہ گروہ ہی حق کو خالص حق کا مقام دے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حق جب اپنی بے آمیز صورت میں ظاہر ہوا تو وہ اس کو لینے کے لئے آگے نہ بڑھ سکے۔ اگر خالص حق ان کا مقصود ہوتا تو ان کے لئے یہ جاننا مشکل نہ ہوتا کہ قرآن کا آنا خود ان کی مقدس کتاب تورات کی پیشین گوئیوں کے مطابق ہے اور یہ کہ قرآن کے نزول کے بعد اب قرآن ہی کتاب حق ہے نہ کہ ان کا اپنا گروہی مذہب۔ ان کا معاملہ فی الواقع حق پرستی کا معاملہ نہیں، اس کا ثبوت ان کی اپنی تاریخ میں یہ ہے کہ انھوں نے خود اپنے گروہ کے نبیوں (مثلاً حضرت زکریا، حضرت یحییٰ کو قتل کیا جنھوں نے ان کی زندگیوں پر تنقید کی، جو ان کے خلاف گواہی دیتے تھے تاکہ ان کو خدا کی طرف پھر الائیں۔ (نحیمياه ٩: ٢٦) حضرت موسیٰ نے جو معجزات پیش کئے اس کے بعد ان کی نبوت میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا تھا۔ مگر کوہ طور کے چالیس روزہ قیام کے زمانہ میں جب حضرت موسیٰ کا شخصی دباؤ ان کے سامنے نہ رہا تو انھوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ ان کے سر پر پہاڑ کھڑا کر دیا گیا تب بھی صرف وقتی طور پر جان بچانے کے لئے انھوں نے کہہ دیا کہ ہاں ہم نے سنا۔ مگر اس کے بعد ان کی اکثریت بدستور نافرمانی کی زندگی پر قائم رہی۔ اگر وہ سچ مچ خدا پرست ہوتے تو ان کی ساری توجہ خدا کی دنیای طرف لگ جاتی جو موت کے بعد آنے والی ہے۔ مگر ان کا حال یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues

Printed page