Al-Risala · October 1979 · page 24

جب اعمال اکارت ہو جائیں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۴

کرو کہ جو کوئی خبریل کا مخالف ہے تو اس نے اس کلام کو تمھارے دل پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے، وہ سچا کرنے والا ہے اس کا جو اس کے آگے ہے اور وہ ہدایت اور خوش خبری ہے ایمان والوں کے لئے۔ جو کوئی دشمن ہو اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبریل و میکائیل کا تو اللہ ایسے کافروں کا دشمن ہے، اور ہم نے تمھارے اوپر واضح نشانیاں اتاریں اور کوئی ان کا انکار نہیں کرتا مگر وہی لوگ جو فاسق ہیں۔ کیا جب بھی وہ کوئی عہد باندھیں گے تو ان کا ایک گروہ اس کو توڑ پھینکے گا۔ بلکہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آیا جو سچا کرنے والا تھا اس چیز کا جو ان کے پاس ہے تو ان لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی تھی، اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے پھینک دیا گویا وہ اس کو جانتے ہی نہیں۔ ۱۰۱ – ۹۷ قدیم زمانہ میں یہود کی سرکشی کے نتیجہ میں بار بار ان کو سخت سزائیں دی گئیں۔ سنت اللہ کے مطابق ہر سزا سے پہلے پیغمبروں کی زبان سے اس کی پیشگی خبردی جاتی۔ یہ جبر اللہ کی طرف سے جبریل فرشتہ کے ذریعہ پیغمبر کے پاس آتی اور وہ اس سے اپنی قوم کو آگاہ کرتے۔ اس قسم کے واقعات میں اصل سبق یہ تھا کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ اللہ کی نافرمانی سے بچے تاکہ وہ عذاب الہی کی زد میں نہ آجائے۔ مگر یہود ان واقعات سے اس قسم کا سبق نہ لے سکے۔ اس کے بجائے وہ کہنے لگے کہ جبریل فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ وہ ہمیشہ آسمان سے ہمارے خلاف احکام لے کر آتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ ۔ نہ جبریل کے ذریعہ مجھ پر وحی کی ہے تو یہود نے کہنا شروع کیا کہ جبریل تو ہمارا پرانا دشمن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت جو صرف اسرائیل گردہ کا حق تھا، اس کو اسی نے ایک اور قبیلہ کے فرد تک پہنچا دیا۔

اس قسم کی بے معنی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو فسق اور بے قیدی کی زندگی گزار رہے ہوں۔ یہود کا حال یہ تھا کہ وہ نفس پرستی، آبائی تقلید، نسلی اور قومی عصبیت کی سطح پرجی رہے تھے۔ اور کچھ نمائشی قسم کے مذہبی کام کرکے ظاہر کرتے تھے کہ وہ عین دین خداوندی پر قائم ہیں۔ جو لوگ اس قسم کی جھوٹی دین داری میں مبتلا ہوں وہ سچے اور بے آمیز دین کی دعوت سن کہ ہمیشہ بگڑ جاتے ہیں۔ کیوں کہ ایسی دعوت ان کو ان کے مقام افتخار سے اتارنے کے ہم معنی نظر آتی ہے۔ وہ مشتعل نفسیات کے تحت ایسی باتیں بولنے لگتے ہیں جو نحو و صرف کے اعتبار سے درست ہونے کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ فرشتوں کا آنا اور رسولوں کا مبعوث ہونا سب مکمل طور پر خدائی منصوبہ کے تحت ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جب دلائل یہ ظاہر کر رہے ہوں کہ پیغمبر عربی کے پاس وہی چیز آئی ہے جو ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ پر آئی تھی اور وہ پچھلے آسمانی صحیفوں کی پیشین گوئیوں کے عین مطابق ہے تو یہ صریح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آدمی بہت سی باتیں یہ ظاہر کرنے کے لئے بولتا ہے کہ وہ ایمان پر قائم ہے۔ حالاں کہ وہ باتیں صرف اس کا ثبوت ہوتی ہیں کہ آدمی کا ایمان اور خدا پرستی سے کوئی تعلق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues

Printed page