Al-Risala · October 1979 · page 25

جب اعمال اکارت ہو جائیں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۵

اور وہ اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس کو شیاطین سلیمان کی سلطنت پر لگا کر پڑھتے تھے۔ حالاں کہ سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ یہ شیاطین تھے جنہوں نے کفر کیا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور وہ اس چیز میں پڑ گئے جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی، جب کہ ان کا حال یہ تھا کہ جب بھی کسی کو اپنا یہ فن سکھاتے تو اس سے کہہ دیتے کہ ہم تو آزمائش کے لئے ہیں۔ پس تم کافر نہ بنو۔ مگر وہ ان سے وہ چیز سیکھتے جس سے مرد اور اس کی عورت کے درمیان جدائی ڈال دیں۔ حالاں کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر اس سے کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ اور وہ ایسی چیز سیکھتے جو ان کو نقصان پہنچائے اور نفع نہ دے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو کوئی اس چیز کا خریدار ہوا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ کیسی بری چیز ہے جس کے بدلے انھوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔ کاش وہ اس کو سمجھتے۔ اور اگر وہ مومن بنتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کا بدلہ ان کے لئے بہتر تھا، کاش وہ اس کو سمجھتے۔ ۱۰۳ - ۱۰۲ آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ کا بگاڑ ہمیشہ صرف ایک ہوتا ہے: نجات آخرت جس کا انحصار تمام تر عمل صالح پر رکھا گیا ہے، اس کا راز یہ علمی میں تلاش کر لینا ۔ اللہ کا کلام حقیقت عمل کی پکار ہے۔ مگر جب قوم پر زوال آتا ہے تو اس کے افراد مقدس کلام کے لکھ لینے یا زبان سے بول دینے کو ہر قسم کی برکتوں کا پراسرار نسخہ سمجھ لیتے ہیں۔ یہی وہ نفسیاتی زمین ہے جس کے اوپر سحر اور کہانت اور عملیات وجود میں آتے ہیں۔ چھومنتر جیسی چیزوں سے جنت حاصل کرنے والے دنیا کو بھی چھو منتر کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ بزرگوں سے عقیدت کو نجات کا ذریعہ سمجھنے والے ارواح سے تعلق قائم کر کے اپنے دنیوی مسائل حل کرنے لگتے ہیں۔ اور اوراد ووظائف کے طلسماتی اثرات پر یقین کرنے والے سیاسی چمتکار دکھا کر ملت کی تعمیر اور اسلام کے احیاء کا منصوبہ بناتے ہیں۔

یہوداپنے زوال کے بعد جب بے عملی اور توہم پرستی کی اس کیفیت میں مبتلا ہوئے تو ان کے درمیان ایسے لوگ پیدا ہوئے جو سحر وکہانت کی دکان لگا کر بیٹھ گئے۔ ان ظالموں نے اپنے کاروبار کو چمکانے کے لئے اپنے اس فن کو حضرت سلیمان کی طرف منسوب کر دیا۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ سلیمان کو جنوں اور ہواؤں تک پر جو غیر معمولی اقتدار حاصل تھا وہ سب علم سحر کی بنا پر تھا اور یہ سلیمانی علم بعض جنوں کے ذریعہ ہم کو حاصل ہو گیا ہے۔ اس طرح حضرت سلیمان کی طرف منسوب ہو کر عملیات کا فن یہود کے اندر بڑے پیمانے پر پھیل گیا۔ حضرت لوط کی قوم مباشرت ہم جنس کی برائی میں مبتلا تھی، اس لئے ان کے یہاں خوبصورت لڑکوں کی صورت میں فرشتے آئے۔ اسی طرح یہود کی آزمائش کے لئے بابل میں دو فرشتے بھیجے گئے جو درویشوں کے بھیس میں عملیات سکھاتے تھے۔ تاہم وہ کہتے رہتے تھے کہ یہ تمھارا امتحان ہے۔ مگر اس انتباہ کے باوجود وہ اس فن پر ٹوٹ پڑے۔ حتیٰ کہ انھوں نے اس کو ناجائز مقاصد میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues

Printed page