جب اعمال اکارت ہو جائیں
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۶
اے ایمان والو تم راعنا نہ کہو بلکہ اُنظرنا کہو اور سنو۔ اور کفر کرنے والوں کے لئے درد ناک سزا ہے۔ جن لوگوں نے انکار کیا، خواہ اہل کتاب ہوں یا مشرکین، وہ نہیں چاہتے کہ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی اترے۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے چن لیتا ہے۔ اللہ بڑے فضل والا ہے۔ ہم جس آیت کو موقوف کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کے مثل دوسری لاتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور تمھارے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے سوالات کرو جس طرح اس سے پہلے موسیٰ سے سوالات کئے گئے۔ اور جس شخص نے ایمان کو کفر سے بدل لیا وہ یقیناً سیدھی راہ سے بھٹک گیا (۱۰۸-۱۰۳)
کسی کو خدا کی طرف سے سچائی ملے اور وہ اس کا داعی بن کر کھڑا ہو جائے تو لوگ اس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس کی دعوت میں لوگوں کو اپنی حیثیت کی نفی دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہود کے لئے مخالفت کا یہ سبب مزید شدت کے ساتھ موجود تھا۔ کیوں کہ وہ پیغمبری کو اپنا قومی حق سمجھتے تھے۔ ان کے لئے یہ بات ناقابل برداشت تھی کہ ان کے گروہ کے سوا کسی اور گروہ میں خدا کے پیغمبر کا ظہور ہو۔ یہود آپ کی دعوت کے بارے میں طرح طرح کی مذہبی بحثیں چھیڑتے تاکہ لوگوں کو اس شبہ میں ڈال دیں کہ آپ جو کچھ پیش کر رہے ہیں وہ محض ایک شخص کی ذاتی اپج ہے۔ وہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی چیز نہیں ہے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ قرآن میں بعض قانونی احکام تو رات سے مختلف تھے۔ ان کو دیکھ کر وہ کہتے کہ کیا خدا حکم دینے میں غلطی کرتا ہے کہ ایک بار ایک حکم دے اور اس کے بعد اسی معاملہ میں دوسرا حکم بھیجے ۔ اس طرح کے شبہات یہود نے اتنی کثرت سے پھیلائے کہ خود مسلمانوں میں کچھ ساوہ مزاج لوگ ان کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنے لگے۔ مزید یہ کہ یہود جب آپ کی مجلس میں بیٹھتے تو ایسے الفاظ بولتے جن سے آپ کا بے حقیقت ہونا ظاہر ہوتا۔ مثلاً ” ہماری طرف توجہ کیجیے“ کے لئے عربی زبان میں ایک محفوظ لفظ اُنظر نا تھا۔ مگر وہ اس کو چھوڑ کر راعنا کہتے۔ کیونکہ تھوڑا سا کھینچ کر اس کو راعینا کہہ دیا جائے تو اس کے معنی” ہمارے چرواہے“ کے ہو جاتے ہیں، اسی طرح کبھی الف کو دبا کر دہ اس کو راعِن کہتے جس کے معنی احمق کے ہوتے ہیں ہدایت کی گئی کہ (۱) گفتگو میں صاف الفاظ استعمال کرو، مشتبہ الفاظ مت بولو جس میں کوئی برا پہلو بھی نکل سکتا ہو (۲) جو بات کہی جائے اس کو غور سے سنو اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرو (۳) سوال کی کثرت آدمی کو سیدھے راستہ سے بھٹکا دیتی ہے، اس لئے سوال وجواب کے بجائے عبرت اور نصیحت کا ذہن پیدا کرو (۴) اپنے ایمان کی حفاظت کرو ۔ ایسا نہ ہو کہ کسی غلطی کی بنا پر تم اپنے ایمان ہی سے محروم ہو جاؤ (۵) دنیا میں کسی کے پاس کوئی خیر دیکھو تو حسد اور جلن میں مبتلا نہ ہو، کیوں کہ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جو اس کے فیصلہ کے تحت اس کے ایک بندے کو پہنچا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues