Al-Risala · October 1979 · page 27

جب اعمال اکارت ہو جائیں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۷

بہت سے اہل کتاب دل سے چاہتے ہیں کہ تمھارے مومن ہو جانے کے بعد وہ کسی طرح پھر تم کو کافر بنا دیں، اپنے حسد کی وجہ سے، باوجودیکہ حق ان کے سامنے واضح ہو چکا ہے۔ پس معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ جائے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اور جو بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو تم اللہ کے پاس پاؤ گے ۔ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ یقیناً اس کو دیکھ رہا ہے ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہودی ہوں یا عیسائی ہوں، یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں۔ کہو کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔ بلکہ جس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا اور وہ مخلص بھی ہے تو ایسے شخص کے لئے اجر ہے اس کے رب کے پاس، ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ کوئی غم ۱۰۹ ۔

قرآن کی آواز اگرچہ بہت سے لوگوں کے لئے ناموس آواز تھی۔ تاہم انھیں ایسے لوگ بھی تھے جو اس کو اپنے دل کی آواز پا کر اس کے دائرہ میں داخل ہوتے جا رہے تھے۔ یہ صورت حال یہود کے لئے ناقابل برداشت بن گئی۔ کیوں کہ یہ ایک ایسی چیز کی ترقی کے ہم معنی تھی جس کو وہ بے حقیقت سمجھ کر نظر انداز کئے ہوئے تھے۔ انھوں نے یہ کیا کہ ایک طرف مشرکین کو ابھار کر ان کو اسلام کے خلاف جنگ پر آمادہ کر دیا۔ دوسری طرف نئے اسلام لانے والوں کو طرح طرح کے شبہات اور مغالطے میں ڈالتے تاکہ وہ قرآن اور صاحب قرآن سے بدظن ہو جائیں اور دوبارہ اپنے آبائی مذہب کی طرف واپس چلے جائیں۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر یہود کے خلاف اشتعال پیدا ہونا فطری تھا۔ مگر اللہ نے اس سے ان کو منع فرما دیا۔ حکم ہوا کہ یہود سے بحث مباحثہ یا ان کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی موجودہ مرحلہ میں ہرگز نہ کی جائے۔ اس معاملہ میں تمام تر اللہ پر بھروسہ کیا جائے اور اس وقت کا انتظار کیا جائے جب اللہ تعالی حالات میں ایسی تبدیلی کر دے کہ ان کے خلاف کوئی فیصلہ کن کارروائی کرنا ممکن ہو جاۓ۔ بروقت مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ صبر کریں اور نماز اور زکوٰۃ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائیں۔ صبر آدمی کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ رد عمل کی نفسیات کے تحت منفی کارروائیاں کرنے لگے۔ نماز آدمی کو اللہ سے جوڑتی ہے۔ اور اپنے مال میں دوسرے بھائیوں کو حق دار بنانا وہ چیز ہے جس سے باہمی خیر خواہی اور اتحاد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

نئے اسلام لانے والوں سے وہ کہتے کہ تم کو اپنا آبائی مذہب چھوڑنا ہے تو یہودیت اختیار کرو یا پھر عیسائی بن جاؤ۔ کیونکہ جنت تو یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے ہے جو ہمیشہ سے نبیوں اور بزرگوں کی جماعت رہی ہے۔ فرمایا کہ کسی گروہ سے وابستگی کسی کو جنت کا مستحق نہیں بناتی۔ جنت کا فیصلہ آدمی کے اپنے عمل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے نہ کہ گروہی فضیلت کی بنیاد پر۔ احسان کے معنی ہیں کسی کام کو اچھی طرح کرنا۔ اسلام میں اچھا ہونا یہ ہے کہ اللہ کے لئے آدمی کی حوالگی اتنی کامل ہو کہ ہر دوسری چیز کی اہمیت اس کے ذہن سے حذف ہو جائے۔ گروہی تعصبات، شخصی وفاداریاں اور دنیوی مصالح کوئی بھی چیز اس کے لئے اللہ کی آواز کی طرف دوڑ پڑنے میں رکاوٹ نہ بنے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues

Printed page