عبرت کے لئے
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۹
آپ لوگوں نے پس ماندہ ملکوں کی مدد کے لیے بہت کچھ کیا ہے اور دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ لوگ اتنے ہی طاقت ور ہیں جتنا کہ مغرب۔ اس لیے ہم لیبیا سے آپ کی مدد حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ہم آپ کے اوپر بوجھ بننا نہیں چاہتے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ چیزیں بہت زیادہ داموں میں تیار ہوتی ہیں۔ ہم ایک ایٹم بم خریدنا چاہتے ہیں‘‘۔ چاؤ این لائی نے اس کے جواب میں نہایت نرم لہجہ اختیار کیا۔ انھوں نے معیاری چینی اخلاق کے ساتھ کہا کہ ایٹم بم فروخت نہیں کیے جاتے۔ چین کو یقیناً اس سے خوشی ہوگی کہ وہ ریسرچ کے کام میں لیبیا کی مدد کرے جس طرح چند سال پہلے چین نے مصر کو تحقیقاتی مدد دینے کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری لیبیا کو خود اپنے آپ کرنی ہوگی۔ ہر قوم کو خود کفیل بننے کی کوشش کرنا چاہئے۔ وغیرہ۔ چنانچہ میجر جلود چین سے خالی ہاتھ واپس آگئے (صفحہ ۷۷۔ ۷۶)
کہا جاتا ہے کہ صدر ناصر جب مصر میں بر سر اقتدار آئے تو انھوں نے بھی ایٹم بم کی خریداری کے لیے ایک وفد روس بھیجا تھا اور وہاں ان کو وہی جواب دیا گیا جو لیبیا کو چین میں جواب دیا گیا۔ ایک تسبیح کے بدلے ۲۰ ملین پونڈ لیبیا میں یکم ستمبر ۱۹۶۹ کے انقلاب کے نتیجہ میں شاہ ادریس کی حکومت ختم ہو گئی اور موجودہ حکومت قائم ہوئی۔ اس واقعہ کی خبر جب پہلی بار صدر جمال عبدالناصر کو دی گئی تو حاضرین نے اس پر مختلف انداز سے تبصرہ شروع کیا۔ صدر ناصر نے اس موقع پر اپنا ایک واقعہ بیان کیا۔ انھوں نے کہا: مجھے یاد ہے کہ ایک موقع پر جب کہ ہم کو ہتھیار خریدنے کے لیے رقم کی فوری ضرورت تھی۔ میں نے حسن صبری الخولی کو شاہ ادریس کے پاس بھیجا اور ان سے اس موقع پر تعاون کی درخواست کی۔ شاہ ادریس نے فوراً وعدہ کر لیا کہ وہ ہم کو ۲۰ ملین پونڈ دے دیں گے، صرف ایک شرط پر۔ وہ یہ کہ ہم ان کو وہ تسبیح واپس کر دیں جو ان کے خاندان کے ایک بزرگ نے الازہر کی مسجد کے لیے دی تھی اور جس کے متعلق ان کا خیال تھا کہ وہ اب بھی مسجد کی کسی کھونٹی پر لٹکی ہوئی ہے۔ میں نے حسن الخولی سے کہا کہ وہ الازہر جائیں اور مذکورہ تسبیح حاصل کریں اور اس کو شاہ ادریس تک پہنچا دیں۔ حسن الخولی نے فوراً ایسا کیا اور شاہ ادریس نے وعدہ کے مطابق ہم کو ۲۰ ملین پونڈ کی رقم پیش کر دی۔ صفحہ ۷۹-۷۸ ہارنے والے کو خوش آمدید!
۱۹۶۷ کی مصر۔ اسرائیل جنگ میں مصر کو بری طرح شکست ہوئی۔ اس کے بعد ہی اگست ۱۹۶۷ میں خرطوم کانفرنس ہوئی۔ ناصر کانفرنس میں شرکت کے لیے پہنچے تو خرطوم کے ہوائی اڈے پر تقریباً پانچ لاکھ آدمی ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ امریکی میگزین نیوز ویک نے اپنی رپورٹ میں اس کا عنوان قائم کیا: مفتوح کو خوش آمدید (Hail to the Conquered) تاہم اسی اجلاس میں شرکت کے لیے اگلے دن شاہ فیصل مرحوم آئے تو ہوائی اڈہ پر ان کا استقبال کرنے کے لیے کوئی بھیڑ موجود نہ تھی۔ تھوڑے سے لوگ جو آئے انھوں نے بھی جو نعرہ لگایا وہ یہ تھا "ناصر کا ساتھ دو" (صفحہ ۵۲)
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues