مسلمان .. کل اور آج
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۰
مسلمان .. کل اور آج
آج کل کسی بڑے قومی ادارہ کا ذکر ہو تو مشکل ہی سے اس کے ذیل میں کسی مسلمان کا نام آتا ہے۔ مگر آزادی سے قبل صورت حال بالکل مختلف تھی۔ اس وقت قومی اداروں کے ساتھ مسلمانوں کے نام اتنی کثرت سے وابستہ تھے کہ کسی ادارہ کے تذکرہ کے ذیل میں کچھ نہ کچھ مسلمانوں کا تذکرہ آ جانا ضروری تھا۔ مسٹر ڈی ۔ ڈی لیکن پال (سابق صدر ریڈیو مینوفیکچررس ایسوسی ایشن آف انڈیا) پچھلے دور میں لمبی مدت تک آل انڈیا ریڈیو سے متعلق رہے ہیں۔ انھوں نے قومی نشریاتی ادارہ سے متعلق اپنی یادداشت شائع کی ہے (ٹائمس آف انڈیا ۳ جولائی ۱۹۷۹ء) اس مضمون میں آل انڈیا ریڈیو کے سابقہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے جن شخصیتوں کے نام آئے ہیں ان کی تعداد کل آٹھ ہے جن میں سے چار مسلمان ہیں:
سرابراہیم رحمت اللہ ، وائی اے فضل بھائی ، حاجی حسن علی ، سر اکبر حیدری اسی طرح سوٹنترا لیڈر مسٹر مینو مسانی ( ۱۹۰۵ء) سے ایک اخبار نویس نے پوچھا ”آپ اپنی زندگی میں سب سے زیادہ کس سے متاثر ہوئے ہیں؟ “ انھوں نے جواب دیا : یوسف مہر علی نے میری زندگی کو نئے افکار سے دوچار کیا، میرا کردار بدلا اور میری قوت فکر کو جلا دی ۔ وہ میرے کالج کے ساتھی تھے اور میں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ انھیں سے متاثر ہوا ہوں (شبستان)
انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں کثرت سے اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔ بوڑھے غیر مسلموں میں کتنے ہی ایسے ملیں گے جو اپنی زندگی کی سب سے زیادہ قابل ذکر شخصیت کی حیثیت سے کسی مسلمان کا نام لیں گے ۔ مگر اب یہ صورت حال بدل چکی ہے۔ اب اس ملک کے مسلمان زندگی کی سرگرمیوں میں قائدانہ مقام سے ہٹ کر پیچھے کی صفوں میں جا چکے ہیں۔
اس فرق کی وجہ کوئی ظلم یا تعصب نہیں ہے۔ اس کی وجہ تمام تر اقتصادی ہے۔ قدیم ہندوستان کی اقتصادی بنیاد زراعت پر قائم تھی۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کے قبضہ میں بڑی بڑی زمینداریاں تھیں۔ یہ صورت حال ان کو نہ صرف حوصلہ اور اعتماد دیتی تھی بلکہ وہ مالی قیمت بھی ادا کرتی تھی جو کسی شعبہ میں آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہے۔ قدیم زمین دار خاندانوں ہی سے عام طور پر وہ لوگ نکلتے تھے جو علم و عمل کے مختلف شعبوں میں ترقی کرتے تھے۔ آزادی کے بعد اقتصادیات کی بنیاد زمین کے بجائے صنعت و تجارت ہو گئی۔ مسلمان نئے اقتصادی نظام میں اپنی جگہ نہ بنا سکے اس لئے وہ زندگی کے تمام شعبوں میں بھی پیچھے رہ گئے۔
گزرے ہوئے ”کل“ کو واپس لانے کے لئے احتجاج اور مطالبات کی مہم چلانا اپنی محرومی کی مدت کو مزید لمبا کرنا ہے۔ ہمارے لئے کرنے کا واحد کام یہ ہے کہ محنت اور لیاقت کے ذریعہ اقتصادیات کی زمین کو دوبارہ حاصل کریں اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آج کی دنیا میں ہم کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل ہو سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues