Al-Risala · November 1979 · page 19

ایک سفر ـــــــــ

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۹

بعد ہموار میدان میں چلنا۔ ممگر عام طور پر لوگ ابتدائی مشکلات سے گھبرا کر اپنا سفر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لئے" ہموار میدان ، کبھی ان کے حصہ میں نہیں آتا۔

میں نے ایک کشمیری نوجوان منظور گلشن بی اے (پیدائش ۱۹۵۶) سے کہا کہ شر ایک منفی کارروائی ہے اور منفی کارروائی ہمیشہ کسی ردعمل کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ اگر آپ ایسا عمل نہ کریں جو اپنا کوئی رد عمل پیدا کرنے والا ہو تو یقینی طور پر آپ دوسروں کے شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ " پھر میں نے گلشن صاحب سے پوچھا: " یہ بتائے، کیا مسلمان اس نقطہ نظر کو قبول کر سکتے ہیں؟ " وہ فورا بولے : "نہیں ! " میں نے پوچھا کیوں۔ انہوں نے کہا: اس لئے کہ مسلمان کا مزاج ڈکٹیٹرانہ ہوتا ہے اس لئے اس قسم کی باتیں اس کو اپیل نہیں کرتیں۔ کشمیری نوجوان جو بات اپنی سادگی میں کہہ دی وہی دراصل مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں شاعر اور مقرر قسم کے لیڈروں نے مسلمانوں کا مزاج انتہائی حد تک بگاڑ دیا ہے۔ شاعر اور خطیب کو حقائق سے بحث نہیں ہوتی۔ وہ پرشور الفاظ اور ردیف و قافیہ کی تک بندیوں سے معرکہ سر کرتا رہتا ہے۔ اس قسم کی تقریبًا سو سالہ ذہنی تربیت نے مسلمانوں کو حد درجہ جذباتی بنا دیا ہے۔ خیالی احساس برتری کے سوا ان کے پاس کوئی اور سرمایہ نہیں۔ وہ کسی طرح حقائق کے ڈھانچہ میں اپنے کو دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ مزاجی بگاڑ مسلمانوں کی تمام انفرادی اور اجتماعی ناکامیوں کا واحد سبب ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس مزاج کی اصلاح ہو سکتی ہے یا نہیں۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مزاج کی اصلاح کے بغیر آگے کا کوئی کام نہیں کیا جا سکتا۔ اس مزاج کی درستی کے بغیر جو اقدام بھی کیا جائے گا وہ صرف ملت کی بربادی میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ قوم کی اسی بے شعوری کا یہ نتیجہ ہے کہ جو شخص بھی اسلام یا ملت اسلام کے نام پر کوئی شور و شر کرنے کے لئے اٹھتا ہے اس کو بہت سے ساتھ دینے والے مل جاتے ہیں حالانکہ ہونا چاہیے کہ بے معنی شور و شر کرنے والے اکیلے رہ جائیں اور قوم کے اندر صرف ان آوازوں کو تعاون ملے جو حقیقی تعمیر کی طرف پکارنے والی ہوں۔

میں سطح سمندر سے چھ ہزار فٹ کی بلندی پر گھاس کی قدرتی مخمل پر بیٹھا ہوں۔ ہر طرف آفاقی مناظر پھیلے ہوئے ہیں۔ سبزہ سے ڈھکی ہوئی پہاڑیاں، قدرتی چشموں کی موسیقی، فرحت بخش ہوا کے جھونکے، سورج کی سہانی کرنیں، نیلا آسمان اور اس میں سفید بادل کی گلکاریاں۔ چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں، تمدن کے ہنگاموں سے دور قدرت کی خاموش دنیا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے کائنات کا حسین چہرہ اپنے حسین تر خالق کا آئینہ بن گیا ہو۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا: خدایا تو اس سے زیادہ ہے کہ میں اپنے لفظوں میں تجھ کو بیان کر سکوں۔ میں نے تیری حمد میں جو کچھ کہا وہ جھوٹ تھا، کیوں کہ میں نے تجھ کو بیان نہیں کیا بلکہ تجھ کو گھٹا دیا۔ میں نے تیری عبادت کی گر میں نے تیری عبادت نہیں کی کیونکہ تو اس سے برتر ہے کہ کوئی تیری عبادت کا حق ادا کر سکے۔

یہاں کا آفاقی ماحول خدا کے جلال و جمال کو اس طرح نمایاں کر رہا تھا کہ اس کے مقابلہ میں اپنی ہر چیز حقیر اور بے قیمت نظر آئی۔ یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آدمی خدا کی آفاقی دنیا میں ہے۔ تمام منفی جذبات اور

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page