ایک سفر ـــــــــ
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۰
سطلی داعیات خدا کی وسیع دنیا میں تحلیل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خود پرستی کائنات کی عظمتوں کے سامنے اپنا وجود کھوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اللہ کے سوا دوسری تمام عقیدتیں اور پرستاریاں ایسی ہو جاتی ہیں جیسے رب العالمین کی بارگاہ میں ان کو جگہ نہ مل رہی ہو۔ دنیا پرستی یہاں کی جنتی فضاؤں میں ایک ایسی حقیر چیز بن جاتی ہے جس پر آدمی خود شرم محسوس کرنے لگے۔
میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جی چاہتا ہے کہ یہاں ایک تربیتی نظام قائم ہو جس میں لوگ دس دس ، ہیں ہیں کی تعداد میں آکر شریک ہوں۔ یہاں کی آفاقی فضا ہی میں وہ تربیت گاہ بن سکتی ہے جس میں وہ انسان پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جو خدا میں جیتے ہوں۔ جو انسانی بستیوں کے بجائے خدائی بلندیوں میں اپنے شعور کی غذا پارہے ہوں۔ جو فانی دنیا کے بجائے خدا کی ابدی دنیا میں سانس لیتے ہوں ۔ کائنات میں غور و فکر آدمی کو خدا سے جوڑتا ہے۔ جب کہ احکام میں خوض سے صرف ذہنی موشگافیاں وجود میں آتی ہیں۔ ایک کے اور معرفت خداوندی کی غذا ہے اندر دوسرے کے اندر اختلاف و انتشار کا سامان۔ یہ ایک موزوں ترین مقام ہے جہاں خدا کے بندوں کو خدا پرستی کا درس دیا جا سکتا ہے۔ یہاں ہر طرف قدرت چہکتے ہیں جن سے سال بھر شفاف پانی ابلتا رہتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب کوئی کہنے والا کہے کہ اللہ کا فیضان ہدایت ہر وقت برس رہا ہے، اس میں سے اپنا حصہ لو تو بہتے ہوئے چشمے اپنی دھیمی موسیقی کے ساتھ اس کی تائید کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جب آپ کہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اس کی بڑائی کو مان کر اس کے آگے جھک جاؤ تو پہاڑوں کی بلندیاں اپنی خاموش زبان میں بول پڑتی ہیں کہ کہنے والے نے سچ کہا۔ جب آپ کہیں کہ ایمان کو اس طرح اپناؤ کہ وہ تمھاری پوری ہستی کو تر و تازہ کرنے کے ہم معنی بن جائے تو چاروں طرف آگے ہوئے سر سبز و شاداب درخت اس قول کی مجسم تفسیر بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب آپ کہیں کہ اختلاف اور شکایت سے اوپر اٹھ کر رہو تو آسمان کی بلندیاں اپنے آفاقی پھیلاؤ کے ساتھ اس کی خاموش تصدیق بن جاتی ہے ۔ خدا سے قریب ہونے کی جگہ خدا کی کھلی ہوئی کائنات ہے مگر لوگ خدا کی قربت کو تنگ و تاریک حجروں میں تلاش کر رہے ہیں۔
از مولانا وحید الدین خان قیمت = ۴/م صفحات = ۷۲ مذہب اور سائنس
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues