موت کے اس پار
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۹
اور جب ہم نے کعبہ کو لوگوں کے اجتماع کی جگہ اور امن کا مقام ٹھہرایا۔ اور حکم دیا کہ مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو۔ اور ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھو۔ اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو ، جو ان میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھیں، پھلوں کی روزی عطا فرما۔ اللہ نے کہا جو انکار کرے گا میں اس کو بھی تھوڑے دنوں فائدہ دوں گا۔ پھر اس کو آگ کے عذاب کی طرف دھکیل دوں گا اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے ۱۲۶ - ۱۲۵ ساری دینا کے اہل ایمان ہر سال اپنے وطن کو چھوڑ کر بیت اللہ آتے ہیں۔ یہاں کسی کے لئے کسی ذی حیات پر زیادتی کرنا جائز نہیں۔ حرم کعبہ کو دائمی طور پر عبادت کی جگہ بنا دیا گیا ہے۔ اس مقام کو ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک رکھا جاتا ہے۔ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے۔ دنیا سے الگ ہو کر اللہ کی یاد کی جاتی ہے اور اللہ کے لئے رکوع و سجود کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ دنیا کا سب سے زیادہ خشک علاقہ تھا جہاں رتیلی زمینوں اور پتھریلی چٹانوں کی وجہ سے کوئی فصل پیدا نہیں ہوتی تھی۔ مزید یہ کہ وہ انتہائی طور پر غیر محفوظ تھا۔ چار ہزار برس پہلے حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ اپنے خاندان کو اس علاقہ میں لے جاؤ اور اس کو وہاں بسا دو۔ حضرت ابراہیم نے ادنیٰ تامل کے بغیر اس کی تعمیل کی ۔ اور جب خاندان کو اس بے آب و گیاہ مقام پر پہنچا چکے تو دعا کی کہ خدایا میں نے تیرے حکم کی تعمیل کر دی۔ اب تو اپنے بندے کی پکار کو سن لے اور اس بستی کو امن و امان کی بستی بنا دے۔ اور اس خشک زمین پر ان کے لئے خصوصی رزق کا انتظام فرما۔ دعا قبول ہوئی اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ علاقہ آج تک امن اور رزق کی کثرت کا نمونہ بنا ہوا ہے۔
مومن کو دنیا میں اس طرح رہنا ہے کہ وہ بار بار یا د کرتا رہے کہ خواہ وہ دنیا کے کسی گوشہ میں ہو اس کو بہر حال ایک روز لوٹ کر خدا کے یہاں جانا ہے۔ وہ جن انسانوں کے درمیان رہے ، بے ضرر بن کر رہے۔ وہ زمین کو خدا کی عبادت کی جگہ سمجھے اور اس کو اپنی کثافتوں سے پاک رکھے۔ اس کی پوری زندگی خدا کے گرد گھومتی ہو۔ وہ بظاہر دنیا میں رہے مگر اس کا دل اپنے رب میں اٹکا ہوا ہو۔ وہ ہمہ تن اللہ کے آگے جھک جائے ۔ پھر یہ کہ دین جس چیز کا تقاضا کرے ، خواہ وہ ایک " چٹیل میدان " میں بیوی بچوں کو لے جا کر ڈال دنیا ہو، بندہ پوری وفاداری کے ساتھ اس کے لئے راضی ہو جائے ۔ اور جب تعمیل حکم کر چکے تو خدا سے مدد کی درخواست کرے۔ عجب نہیں کہ خدا اپنے بندے کی خاطر چٹیل بیابان میں رزق کے چشمے جاری کر دے ۔
دنیا کی رونق ، خواہ کسی کو دین کے نام پر ملے ، اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اللہ نے اس کو امامت و پیشوائی کے منصب کے لئے قبول کر لیا ہے۔ دنیا کی چیزیں صرف آزمائش کے لئے ہیں جو سب کو ملتی ہیں۔ جبکہ امامت یہ ہے کہ کسی بندے کو قوموں کے درمیان خدا کی نمائندگی کے لئے منتخب کر لیا جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues