موت کے اس پار
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۰
اور جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے : اے ہمارے رب ! قبول کر ہم سے، یقیناً جو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔ اے ہمارے رب ہم کو اپنا فرماں بردار بنا اور ہماری نسل میں سے اپنی ایک فرماں بردار امت اٹھا اور ہم کو ہمارے عبادت کے طریقے بتا اور ہم کو معاف فرما، تو معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ اے ہمارے رب اور ان میں ان ہی میں کا ایک رسول اٹھا جو ان کو تیری آیتیں سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔ بے شک تو زبردست حکمت والا ہے اللہ کا یہ فیصلہ تھا کہ وہ حجاز کو اسلام کی دعوت کا عالمی مرکز بنائے۔ اس مرکز کے قیام اور انتظام کے لئے حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کا انتخاب ہوا۔ بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی زبان سے جو کلمات نکل رہے تھے وہ ایک اعتبار سے دعا تھے اور دوسرے اعتبار سے وہ دور رخوں کا اپنے آپ کو اللہ کے منصب بے میں دے دینے کا اعلان تھا۔ ایسی دعا خود مطلوب الہی ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ پوری طرح قبول ہوئی۔ عرب کے خشک بیابان سے اسلام کا ابدی چشمہ پھوٹ نکلا۔ بنی اسماعیل کے دل اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر اپنے دین کی خدمت کے لئے نرم کر دیئے ۔ ان کے انور سے ایک طاقت در اسلامی دعوت برپا ہوئی۔ ان کے ذریعہ سے اللہ نے اپنے بندوں کو وہ طریقے بتائے جن سے وہ خوش ہوتا ہے اور اپنی رحمت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ پھر انھیں کے اندر سے اس آخری رسول کی بعثت ہوئی جس نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ کار نبوت کو ایک مکمل تاریخی نمونہ کی صورت میں قائم کر دیا۔
نبی کا پہلا کام تلاوت آیات ہے۔ آیت کے معنی نشانی کے ہیں یعنی وہ چیز تو کسی چیز کے اوپر دلیل بنے۔ انسان کی فطرت میں اور باہر کی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کی بے شمار نشانیاں رکھ دی ہیں۔ یہ اشارات کی صورت میں ہیں۔ پیغمبر ان اشارات کو کھولتا ہے ۔ وہ آدمی کو وہ نگاہ دیتا ہے جس سے وہ ہر چیز میں اپنے رب کا جلوہ دیکھنے لگے ، کتاب سے مراد قرآن ہے۔ نبی کا دوسرا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی وحی کا محیط بنتا ہے اور اس کو خدا سے لے کر انسان تک پہنچاتا ہے حکمت کا مطلب ہے بصیرت ۔ جب آدمی خدا کی نشانیوں کو دیکھنے کی نظر پیدا کر لیتا ہے ، جب وہ اپنے ذہن کو قرآن کی تعلیمات میں ڈھال لیتا ہے تو اس کے اندر ایک فکری روشنی جل اٹھتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو حقیقت کے ہم شعور بنا لیتا ہے۔ وہ ہر معاملہ میں اس صحیح فیصلہ تک پہنچ جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ تزکیہ کا مطلب ہے کسی چیز کو غیر موافق عناصر سے پاک کر دینا تاکہ وہ موافق فضا میں اپنے فطری کمال کو پہنچ سکے ۔ نبی کی آخری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسے انسان تیار ہوں جن کے سینے اللہ کی عقیدت کے سوا ہر عقیدت سے خالی ہوں۔ ایسی روحیں وجود میں آئیں جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہوں، ایسے افراد پیدا ہوں جو کائنات سے وہ ربانی رزق پاسکیں جو اللہ نے اپنے مومن بندوں کے لئے رکھ دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues