موت کے اس پار
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۱
اور کون ہے جو ابراہیم کے دین کو پسند کرے مگر وہ جس نے اپنے آپ کو احمق بنا لیا ہو۔ حالاں کہ ہم نے اس کو دنیا میں چن لیا تھا اور آخرت میں وہ صالحین میں سے ہوگا۔ جب اس کے رب نے کہا کہ اپنے آپ کو حوالے کر دو تو اس نے کہا: میں نے اپنے آپ کو رب العالمین کے حوالے کیا اور اسی کی نصیحت کی ابراہیم نے اپنی اولاد کو اور اسی کی نصیحت کی یعقوب نے اپنی اولاد کو۔ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمھارے لئے اسی دین کو چن لیا ہے۔ پس اسلام کے سوا کسی اور حالت پر تم کو موت آئے۔ کیا تم موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا۔ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے۔ انھوں نے کہا: ہم اسی خدا کی عبادت کریں گے جس کی عبادت آپ اور آپ کے بزرگ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق کرتے آئے ہیں، وہی ایک معبود ہے اور ہم اس کے فرماں بردار ہیں۔ یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی۔ اس کو ملے گا جو اس نے کمایا اور تم کو ملے گا جو تم نے کمایا۔ اور تم سے ان کے کئے ہوئے کی پوچھ نہ ہوگی ۱۳۱ - ۱۳۰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت عین وہی تھی جو حضرت ابراہیم کی دعوت تھی۔ مگر یہود، جو حضرت ابراہیم کا پیرو ہونے پر فخر کرتے تھے، آپ کی دعوت کے سب سے بڑے مخالف بن گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی جس دین ابراہیم کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے وہ " اسلام"، تھا۔ یعنی اللہ کے لئے کامل حوالہگی کو سپر دگی۔ قرآن کے مطابق یہی حضرت ابراہیم کا دین تھا اور اپنی اولاد کو انھوں نے اسی کی وصیت کی۔ اس کے برعکس یہود نے حضرت ابراہیم کی طرف جو دین منسوب کر رکھا تھا اس میں حوالہگی و سپردگی کا کوئی سوال نہ تھا۔ اس میں آزادانہ زندگی گزارتے ہوئے محض سستے تخیلات کے تحت جنت کی ضمانت حاصل ہو جاتی تھی۔ پیغمبر عربی کے لائے ہوئے دین میں نجات کا دار و مدار تمام تر عمل پر نہ تھا، جب کہ یہود نے "اللہ کے مقبول بندوں کی جماعت سے وابستگی اور عقیدت کو نجات کے لئے کافی سمجھ لیا تھا۔ اول الذکر کے نزدیک دین آسمانی ہدایات کا نام تھا اور ثانی الذکر کے نزدیک محض ایک گرد ہی مجموعہ کا جو نسلی روایات اور قومی تخیلات کے تحت ایک خاص صورت میں بن گیا تھا۔
ماضی یا حال کے بزرگوں سے اپنے کو منسوب کر کے یہ اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ ہمارا انجام بھی انھیں کے ساتھ ہوگا۔ ہمارے عمل کی کمی ان کے عمل کی زیادتی سے پوری ہو جائے گی۔ یہود اس خوش فہمی کو یہاں تک لے گئے کہ انھوں نے "نجات متوارث کا عقیدہ وضع کر لیا۔ انھوں نے اپنی تمام امیدیں اپنے بزرگوں کے تقدس پر قائم کرلیں۔ مگر یہ نفسیاتی فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہر ایک کے آگے وہی آئے گا جو اس نے کیا۔ ایک سے نہ دوسرے کے جرائم کی پوچھ ہوگی اور نہ ایک کو دوسرے کی نیکیوں میں سے حصہ ملے گا۔ ہر ایک اپنے کئے کے مطابق اللہ کے یہاں بدلہ پائے گا۔ " تم نہ مرنا مگر اسلام پر"، یعنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنے میں رکاوٹیں آئیں گی تمھاری تمناؤں کی عمارت گرے گی۔ پھر بھی تم آخر وقت تک اس پر قائم رہنا۔ الرسائل (نمبر ۱۱۹۷)
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues