موت کے اس پار
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۲
اور کہتے ہیں کہ یبندی یا نصرانی بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ کہو کہ نہیں، بلکہ ہم تو پیروی کرتے ہیں ابراہیم کے دین کی جو اللہ کی طرف یکسو تھا اور وہ شریک کرنے والوں میں نہ تھا۔ کہو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر ایمان لائے جو ہماری طرف اتاری گئی ہے اور اس پر بھی جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر اتاری گئی اور جو ہوسیٰ اور عیسیٰ کو اور جو ملا سب نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ پھر اگر وہ ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے مو تو بے شک وہ راہ پا گئے اور اگر وہ پھر جائیں تو اب وہ ضد میں ہیں۔ پس تمھاری طرف سے اللہ ان کے لیے کافی ہے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ کہو ہم نے لیا اللہ کا رنگ اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔ کہو کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو حالاں کہ وہ ہمارا رب بھی ہے اور تمھارا رب بھی۔ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال ہیں اور ہم خالص اس کے لیے ہیں۔ کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد سب یہودی یا نصرانی تھے۔ کہو کہ تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ۔ اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اس گواہی کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس آئی ہوئی ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں۔ یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی ۔ اس کو ملے گا جو اس نے کمایا اور تم کو ملے گا جو تم نے کمایا۔ اور تم سے ان کے کئے ہوئے کی پوچھ نہ ہوگی ۱۴۱۔ - ۱۳۵ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس دین کی طرف بلاتے تھے وہ وہی ابراہیمی دین تھا جس سے یہود و نصاریٰ اپنے کو منسوب کئے ہوئے تھے۔ پھر وہ آپ کے مخالف کیوں ہو گئے۔ وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی کی دعوت کے مطابق دین یہ تھا کہ آدمی اپنی زندگی کو اللہ کے رنگ میں رنگ لے، وہ ہر طرف سے یکسو ہو کر اللہ والا ہو جائے۔ اس کے برعکس یہود کے یہاں دین بس ایک قومی فخر کے نشان کے طور پر باقی رہ گیا تھا۔ پیغمبر عربی کی دعوت سے ان کی پر فخر نفسیات پر زد پڑتی تھی، اس لئے وہ آپ کے دشمن بن گئے۔
جو لوگ گروہی فضیلت کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ اپنے سے باہر کسی صداقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ وہ اپنے گروہ کے پیغمبرانِ خدا کو تو مانیں گے مگر اسی خدا کا ایک پیغمبر ان کے گروہ سے باہر آئے تو وہ اس کا انکار کر دیں گے۔ دین کے نام پر وہ جس چیز سے واقف ہیں وہ صرف گروہ پرستی ہے۔ اس لئے وہی شخصیتیں ان کو شخصیتیں نظر آتی ہیں جو ان کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتی ہوں۔ مگر جس شخص کے لئے دین خدا پرستی کا نام ہو وہ خدا کی طرف سے آنے والی ہر آواز کو پہچان لے گا اور اس پر لبیک کہے گا۔ یہود کے علماء کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ پیغمبر عربی اللہ کے آخری رسول ہیں اور ان کی دعوت سچی خدا پرستی کی دعوت ہے۔ مگر اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر انھوں نے لوگوں کے سامنے ایک ایسی حقیقت کا اعلان نہیں کیا جس کا اعلان کرنا ان کے اوپر خدا کی طرف سے فرض کیا گیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues