Al-Risala · November 1979 · page 33

موت کے اس پار

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۳

اب بے وقوف لوگ کہیں گے کہ مسلمانوں کو کس چیز نے ان کے قبلہ سے پھیر دیا۔ کہو کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔ اور جس قبلہ پر تم تھے، ہم نے اس کو صرف اس لئے ٹھہرایا تھا کہ ہم جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اس سے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور بیشک یہ بات بھاری ہے مگر ان لوگوں پر جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع کردے۔ بے شک اللہ لوگوں کے ساتھ شفقت کرنے والا مہربان ہے۱۴۳-۱۴۲ قبلہ کا تعلق مظاہر عبادت سے ہے نہ کہ حقیقت عبادت سے۔ قبلہ کا اصل مقصد عبادت کی تنظیم کے لئے ایک عمومی رخ کا تعین کرنا ہے۔ ہر سمت اللہ کی سمت ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لئے جو سمت بھی مقرر کردے وہی اس کی پسندیدہ عبادتی سمت ہوگی، خواہ وہ مشرق کی طرف ہو یا مغرب کی طرف۔ مگر لمبی مدت تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے عبادت کرنے کی وجہ سے قبلہ اول کو تقدس حاصل ہو گیا تھا۔ چنانچہ ۵۳ ھ میں جب قبلہ کی تبدیلی کا اعلان ہوا تو بہت سے لوگوں کے لئے اپنے ذہن کو اس کے مطابق بنانا مشکل ہو گیا۔ یہود نے اس کو بہانہ بنا کر آپ کے خلاف طرح طرح کی باتیں پھیلانی شروع کیں۔ بیت المقدس ہمیشہ سے نبیوں کا قبلہ رہا ہے۔ پھر اس کی مخالفت کیوں ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ساری تحریک یہود کی ضد میں چلائی جارہی ہے۔ کوئی کہتا کہ یہ مدعی رسالت خود اپنے مشن کے بارے میں متحیر و متردد ہیں، کبھی کعبہ کی طرف رخ کر کے عبادت کرنے کو کہتے ہیں اور کبھی بیت المقدس کی طرف کسی نے کہا: اگر کعبہ ہی اصل قبلہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے جو مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے ان کی نمازیں بے کار گئیں، وغیرہ۔ مگر جو سچے خدا پرست تھے ، جو مظاہر میں اٹکے ہوئے نہیں تھے ، ان کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اصل چیز قبلہ کی سمت نہیں ، اصل چیز خدا کا حکم ہے۔ اللہ کی طرف سے جس وقت جو حکم آجائے وہی اس وقت کا قبلہ ہوگا۔ روایات میں آتا ہے کہ ہجرت کے تقریباً سترہ ماہ بعد جب قبلہ کی تبدیلی کا حکم آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ میں نماز ادا کر رہے تھے۔ حکم معلوم ہوتے ہی آپ نے اور مسلمانوں نے عین حالت نماز میں اپنا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف کر لیا۔ یعنی شمال سے جنوب کی طرف۔ قبلہ کی تبدیلی ایک علامت تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو امامت سے معزول کر کے امت محمدی کو اس کی جگہ مقرر کر دیا ہے۔ اب قیامت تک بیت المقدس کے بجائے کعبہ خدا کے دین کی دعوت اور خدا پرستوں کے باہمی اتحاد کا عالمی مرکز ہو گا۔ "وسط" کے معنی بیچ کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانے کے لئے درمیانی وسیلہ ہیں۔ اللہ کا پیغام رسول کے ذریعہ ان کو پہنچا ہے۔ اب اس پیغام کو انھیں قیامت تک تمام قوموں کو پہنچاتے رہنا ہے، اسی پر دنیا میں بھی ان کے مستقبل کا انحصار ہے اور اسی پر آخرت کا بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page