موت کے اس پار
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۴
ہم تمھارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ پس ہم تم کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس کو تم پسند کرتے ہو، اب اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر دو۔ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، اپنے رُخ کو اسی کی طرف کرو۔ اور اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے رب کی جانب سے ہے۔ اور اللہ بے خبر نہیں اس سے جو وہ کر رہے ہیں اور اگر تم ان اہل کتاب کے سامنے تمام دلیلیں پیش کر دو تب بھی وہ تمھارے قبلہ کو نہ مانیں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کر سکتے ہو۔ اور نہ وہ خود ایک دوسرے کے قبلہ کو مانتے ہیں۔ اور اس علم کے بعد جو تمھارے پاس آچکا ہے، اگر تم ان کی خواہشوں کی پیروی کرو گے تو یقیناً تم ظالموں میں ہو جاؤ گے جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ اور ان میں سے ایک گروہ حق کو چھپا رہا ہے حالانکہ وہ اس کو جانتا ہے۔ حق وہ ہے جو تیرارب کہے۔ پس تم ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ جن امور میں ابھی وحی نہ آئی ہو ان میں آپ پچھلے انبیاء کے طریقہ کی پیروی کرتے تھے۔ اسی بنا پر آپ نے ابتداً بیت المقدس کو قبلہ بنایا تھا جو حضرت سلیمان کے زمانہ سے بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا قبلہ رہا ہے۔ یہود کو جب اللہ تعالیٰ نے دین کی امامت و پیشوائی سے معزول کیا تو اس کے بعد یہ بھی ضروری ہو گیا کہ دین کو یہود کی روایات سے جدا کر دیا جائے تاکہ خدا کا دین ہر اعتبار سے اپنی خالص شکل میں نمایاں ہو سکے۔ اسی مصلحت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبدیلی قبلہ کے حکم کا انتظار رہتا تھا۔ چنانچہ ہجرت کے دوسرے سال یہ حکم آگیا۔ یہود کے انبیاء جو یہود کو خبر دار کرنے کے لئے آئے ، وہ پہلے ہی اس فیصلہ الہی کی بابت یہود کو بتا چکے تھے اور ان کے علماء اس معاملہ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ تاہم ان میں صرف چند لوگ (جیسے عبد اللہ بن سلام اور مخیریق رضی اللہ عنہما) ایسے نکلے جنہوں نے آپ کی تصدیق کی اور اس بات کا اقرار کیا کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے دین کا اظہار فرمایا ہے۔ یہود کے نہ ماننے کی وجہ محض ان کی خواہش پرستی تھی۔ وہ جن گروہی خوش خیالیوں میں جی رہے تھے ، ان سے وہ نکلنا نہیں چاہتے تھے۔ اور جو انکار محض خواہش پرستی کی بنا پر پیدا ہو اس کو توڑنے میں کبھی کوئی دلیل کامیاب نہیں ہوتی۔ ایسا آدمی دلائل کے انکار سے اپنے لئے وہ رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے خالق نے صرف دلائل کے اعتراف میں رکھا ہے۔
اللہ کی طرف سے جب کسی امر حق کا اعلان ہوتا ہے تو وہ ایسے قطعی دلائل کے ساتھ ہوتا ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ اس کی صداقت کو پہچاننے سے عاجز نہ رہے۔ ایسی حالت میں جو لوگ شبہ میں پڑیں وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ خدا سے آشنا نہ تھے اس لئے وہ خدا کی بولی کو پہچان نہ سکے۔ اسی طرح وہ لوگ جو حق کے خلاف کچھ الفاظ بول کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے حق کا اعتراف نہ کرنے کے لئے مضبوط استدلالی سہارے دریافت کر لئے ہیں، بہت جلد ان کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ محض فرضی سہارے تھے جو ان کے نفس نے اپنی جھوٹی تسکین کے لئے وضع کر لئے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues