موت کے اس پار
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۵
ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے جدھر وہ منھ کرتا ہے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف دوڑو۔ تم جہاں کہیں ہو گے اللہ تم سب کو لے آئے گا۔ بے شک اللہ سب کچھ کر سکا ہے۔ اور تم جہاں سے بھی نکلو اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کرو۔ بے شک یہ حق ہے، تمہارے رب کی طرف سے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں۔ اور تم جہاں سے بھی نکلو اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کرو اور تم جہاں بھی ہو اپنے رخ اسی کی طرف رکھو تا کہ لوگوں کو تمہارے اوپر کوئی حجت باقی نہ رہے، سوا ان لوگوں کے جو ان میں بے انصاف ہیں۔ پس تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ اور تاکہ میں اپنی نعمت تمہارے اوپر پوری کر دوں۔ اور تاکہ تم راہ پا جاؤ۔ جس طرح ہم نے تمہارے درمیان ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور تم کو پاک کرتا ہے اور تم کو کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اور تم کو وہ چیزیں سکھا رہا ہے جن کو تم نہیں جانتے تھے۔ پس تم مجھے کو یاد رکھو میں تم کو یاد رکھوں گا۔ اور میرا احسان مانو، میری ناشکری مت کرو ۱۵۲ - ۱۲۸ کعبہ کو قبلہ مقرر کیا گیا تو یہودیوں اور عیسائیوں نے اس قسم کی بحثیں چھیڑ دیں کہ مغرب کی سمت خدا کی سمت ہے یا مشرق کی سمت۔ وہ اس مسئلہ کو بس رخ بندی کے مسئلہ کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔ مگر یہ ان کی نا سمجھی تھی۔ کعبہ کو قبلہ مقرر کرنے کا معاملہ سادہ طور پر ایک عبادتی رخ مقرر کرنے کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک علامت تھی کہ اللہ کے بندوں کے لئے اس سب سے بڑے خیر کے اترنے کا وقت آگیا ہے جس کا فیصلہ بہت پہلے کیا جا چکا تھا۔ یہ ابراہیم (علیہما السلام) کی دعا کے مطابق نبی آخر الزماں کا ظہور ہے۔ اب وہ آنے والا آگیا ہے جو انسان کے اوپر اللہ کی ابدی ہدایت کا دروازہ کھولے اور اس کی نعمت ہدایت کو آخری حد تک کامل کر دے ۔ جو دین اللہ کی طرف سے بار بار بھیجا جاتا رہا مگر انسانوں کی غفلت و سرکشی سے ضائع ہوتا رہا، اس کو اس کی پوری صورت میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دے۔ خدا کا دین جواب تک محض روایتی افسانہ بنا ہوا تھا اس کو ایک حقیقی واقعہ کی حیثیت سے انسانی تاریخ میں شامل کر دے۔ وہ دین جس کا کوئی مستقل نمونہ قائم نہیں ہو سکتا تھا اس کو ایک زندہ عملی نمونہ کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے رکھ دے۔ یہ ہدایت الہی کی تکمیل کا معاملہ ہے نہ کہ مختلف سمتوں میں سے کوئی زیادہ "مقدس سمت" مقرر کرنے کا۔
کعبہ کی تعمیر کے وقت ہی یہ مقدر ہو چکا تھا کہ آخری رسول کے ذریعہ جس دین کا ظہور ہوگا اس کا مرکز کعبہ ہوگا پچھلے انبیاء لوگوں کو مسلسل اس کی خبر دیتے رہے۔ اس طرح اللہ کی طرف سے کعبہ کو تمام قوموں کے لئے قبلہ مقرر کرنا گویا نبی آخر الزماں کی حیثیت کو ثابت شدہ بنانا تھا۔ اب جو سنجیدہ لوگ ہیں ان کے لئے اللہ کا یہ اعلان آخری حجت ہے۔ اور جو لوگ آخرت سے بے خوف ہیں ان کی زبان کو کوئی بھی چیز رکنے والی ثابت نہیں ہو سکتی۔ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہی ہدایت کا راستہ پاتے ہیں۔ اللہ کو یاد رکھنا ہی کسی کو اس کا مستحق بناتا ہے کہ اللہ اس کو یاد رکھے۔ اللہ سے خوف رکھنا ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ اللہ اس کو دوسری تمام چیزوں سے بے خوف کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues