Al-Risala · November 1979 · page 36

موت کے اس پار

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۶

اے ایمان والو، صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مروہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تم کو خبر نہیں۔ اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔ ۱۵۴ - ۱۵۳ دین یہ ہے کہ آدمی اپنے خالق کو اس طرح پالے کہ اس کی یاد میں اور اس کی شکر گزاری میں اس کے صبح و شام بسر ہونے لگیں۔ اس قسم کی زندگی ہی تمام خوشیوں اور لذتوں کا خزانہ ہے۔ مگر یہ خوشیاں اور لذتیں اپنی حقیقی صورت میں آدمی کو صرف آخرت میں ملیں گی۔ موجودہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے انعام کے لئے نہیں بنایا بلکہ امتحان کے لئے بنایا ہے، یہاں ایسے حالات رکھے گئے ہیں کہ خدا پرستی کی راہ میں آدمی کے لئے رکاوٹیں پڑیں تاکہ معلوم ہو کہ کون اپنے اظہار ایمان میں سنجیدہ ہے اور کون سنجیدہ نہیں ـــــــ نفس کے محرکات، بیوی بچوں کے تقاضے، دنیا کی مصلحتیں، شیطان کے وسوسے، سماجی حالات کا دباؤ، یہ چیزیں فتنہ کی صورت میں آدمی کو گھیرے رہتی ہیں۔ آدمی کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ ان فتنوں کو پہچانے اور ان سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ذکر وشکر کے تقاضے پورا کرے۔

ان امتحانی مشکلات کے مقابلہ میں کامیابی کا واحد ذریعہ نماز اور صبر ہے۔ یعنی اللہ سے لپٹنا اور ہر قسم کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرتے ہوئے بالارادہ حق کے راستہ پر جمے رہنا۔ جو لوگ ناموافق حالات سامنے آنے کے باوجود نہ بدکیں اور بظاہر غیر اللہ میں نفع دیکھتے ہوئے اللہ کے ساتھ اپنے کو باندھے رہیں وہی دہ لوگ ہیں جو سنت الہی کے مطابق کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔

حق کی راہ میں مشکلات و مصائب کا دوسرا سبب مومن کا تبلیغی کردار ہے۔ تبلیغ و دعوت کا کام نصیحت اور تنقید کا کام ہے۔ اور نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے لئے سب سے زیادہ مبغوض چیز رہی ہے، ان میں بھی نصیحت سننے کے لئے سب سے زیادہ حساس وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے دنیا کے کاروبار کو دین کے نام پر کر رہے ہوں۔ داعی کی ذات اور اس کے پیغام میں ایسے تمام لوگوں کو اپنی حیثیت کی نفی نظر آنے لگتی ہے۔ داعی کا وجود ایک ایسی ترازو بن جاتا ہے جس پر ہر آدمی تل رہا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ داعی بنا پھٹڑ کے چھتہ میں ہاتھ ڈالنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے ماحول کے اندر بے جگہ کر دیا جاتا ہے۔ اس کی معاشیات برباد ہو جاتی ہے۔ اس کی ترقیوں کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ حتی کہ اس کی جان تک خطرہ میں پڑ جاتی ہے۔ مگر وہی آدمی راہ پر ہے جس کو بے راہ بتا کر ستایا جائے۔ وہی پاتا ہے جو اللہ کی راہ میں کھوئے۔ وہی جی رہا ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان دے دے۔ آخرت کی جنت اسی کے لئے ہے جو اللہ کی خاطر دنیا کی جنت سے محروم ہو گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page