موت کے اس پار
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۷
صفا و مروہ بے شک اللہ کی یادگاروں میں سے ہیں۔ پس جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان کا طواف کرے اور جو کوئی شوق سے کچھ نیکی کرے تو اللہ قدر داں ہے، جاننے والا ہے۔ جو لوگ چھپاتے ہیں ہماری اتاری ہوئی کھلی نشانیوں کو اور ہماری ہدایت کو، بعد اس کے کہ ہم اس کو لوگوں کے لیے کتاب میں کھول چکے ہیں تو وہی لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور ان پر لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔ البتہ جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اور بیان کیا تو ان کو میں معاف کردوں گا اور میں ہوں معاف کرنے والا، مہربان۔ بے شک جن لوگوں نے انکار کیا اور اسی حال میں مر گئے تو وہی لوگ ہیں کہ ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور آدمیوں کی سب کی لعنت ہے۔ اسی حال میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ ان پر سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ ان کو ڈھیل دی جائے گی۔ ۱۵۸ - ۱۶۲ حضرت ابراہیم کا وطن عراق تھا۔ اللہ کے حکم سے وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کو لا کر اس مقام پر چھوڑ گئے جہاں آج مکہ ہے۔ اس وقت یہاں نہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ پیاس کا تقاضا ہوا تو ہاجرہ پانی کی تلاش میں نکلیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ صفا اور مروہ نامی پہاڑیوں کے درمیان دوڑتی رہیں۔ سات چکر لگانے کے بعد ناکام لوٹیں تو دیکھا کہ ان کی قیام گاہ کے پاس ایک چشمہ پھوٹ نکلا ہے۔ یہ چشمہ بعد کو زمزم کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتا ہے کہ اللہ کا معاملہ اپنے بندوں سے کیا ہے۔ اللہ کا کوئی بندہ اللہ کی راہ میں ٹھہرتے ہوئے اس حد تک چلا جائے کہ اس کے قدموں کے نیچے ریگستان اور بیابان کے سوا کچھ نہ رہے تو اللہ اپنی قدرت سے ریگستان میں اس کے لئے رزق کے چشمے جاری کردے گا ۔ حج اور عمرہ میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا مقصد اسی تاریخ کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات میں اللہ کی نشانیاں اتنی واضح تھیں کہ یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ آپ کی زبان پر اللہ کا کلام جاری ہوا ہے۔ مگر یہودی علماء نے آپ کا اقرار نہیں کیا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ پیغمبر عربی کو مان لیں تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہو جائے گی۔ ان کی جمی ہوئی تجارتیں اجڑ جائیں گی۔ اپنی کامیابی کا راز انھوں نے حق کو چھپانے میں سمجھا، حالاں کہ ان کی کامیابی کاراز حق کے اعلان میں تھا۔ حق کی طرف بڑھنے میں وہ اپنے آپ کو بے زمین ہوتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ جو بندہ حق کی خاطر بے زمین ہو جائے وہ سب سے بڑی زمین کو پا لیتا ہے، یعنی اللہ رب العالمین کی نصرت کو۔
تاہم اللہ کی رحمت کا دروازہ آدمی کے لئے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ ابتدائی طور پر غلطی کرنے کے بعد اگر آدمی کو ہوش آجائے اور وہ پلٹ کر صحیح رویہ اختیار کرلے۔ وہ اس امر حق کا اعلان کرے جس کو اللہ چاہتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔ مگر جو لوگ عدم اعتراف پر قائم رہیں اور اسی حال میں مر جائیں تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور کر دئے جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues