Al-Risala · November 1979 · page 38

موت کے اس پار

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۸

اور تمھار ا معبود ایک ہی معبود ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ بڑا مسببان ہے ، نہایت رحم والا ہے۔ بے شک آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں اور ان کشتیوں میں جو انسانوں کے کام آنے والی چیزیں لے کر سمندر میں چلتی ہیں اور اس پانی میں جس کو اللہ نے آسمان سے اتارا۔ پھر اس سے مردہ زمین کو زندگی بخشی۔ اور اس نے زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلا دئے۔ اور ہواؤں کی گردش میں اور بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان حکم کے تابع ہیں، ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں ۔ ۱۶۴-۱۶۳۔ انسان کا خدا ایک ہی خدا ہے اور وہی اس قابل ہے کہ وہ انسان کی توجہات کا مرکز بنے۔ ہمارا وجود اور وہ سب کچھ جو ہم کو زمین پر حاصل ہے وہ اسی لئے ہے کہ ہمارا یہ خدا رحمتوں اور مہربانیوں کا خزانہ ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ اس کو حقیقی معنوں میں اپنا معبود بنائے۔ وہ اسی کے لئے جئے اور اسی کے لئے مرے اور اپنی تمام امیدوں اور تمناؤں کو ہمیشہ کے لئے اسی کے ساتھ وابستہ کر دے۔ جس طرح ایک چھوٹا بچہ اپنا سب کچھ صرف اپنی ماں کو سمجھتا ہے اسی طرح خدا انسان کے لئے اس کا سب کچھ بن جائے۔

ہمارے سامنے پھیلی ہوئی کائنات اللہ کا ایک عظیم الشان تعارف ہے۔ زمین و آسمان کی صورت میں ایک اتھاہ کارخانہ کا موجود ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ضرور اس کا کوئی بنانے والا ہے۔ طرح طرح کے ظاہری اختلاف اور تضاد کے باوجود تمام چیزوں کا حد درجہ ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ثابت کرتا ہے کہ اس کا خالق و مالک صرف ایک ہے۔ کائنات کی چیزوں میں نفع بخشی کی صلاحیت ہونا گویا اس بات کا اعلان ہے کہ اس کی منصوبہ بندی کامل شعور کے تحت بالارادہ کی گئی ہے۔ بظاہر بے جان چیزوں میں قدرتی عمل سے جان اور تازگی کا آجانا بتاتا ہے کہ کائنات میں موت محض عارضی ہے، یہاں ہر موت کے بعد لازماً دوسری زندگی آتی ہے۔ ایک ہی پانی اور ایک ہی خوراک سے قسم قسم کے جانداروں کا ان گنت تعداد میں پایا جانا اللہ کی بے حساب قدرت کا پتہ دیتا ہے۔ ہوا کا مکمل طور پر انسان کو اپنے گھیرے میں لئے رہنا بتاتا ہے کہ انسان پوری طرح اپنے خالق کے قبضہ میں ہے۔ کائنات کی تمام چیزوں کا انسانی ضرورت کے مطابق سدھا ہوا ہونا ثابت کرتا ہے کہ انسان کا خالق ایک بے حد مہربان ہستی ہے، وہ اس کی ضروریات کا اہتمام اس وقت سے کر رہا ہوتا ہے جب کہ اس کا وجود بھی نہیں ہوتا۔ کائنات میں اس قسم کی نشانیاں گویا مخلوقات کے اندر خالق کی جھلکیاں ہیں۔ وہ اللہ کی ہستی کا، اس کے ایک ہونے کا، اس کے تمام صفات کمال کا جامع ہونے اتنے بڑے پیمانہ پر اظہار کر رہی ہیں کہ کوئی آنکھ والا اس کو دیکھنے سے محروم نہ رہے اور کوئی عقل والا اس کو پانے سے عاجز نہ ہو۔ دلائل کو وہی شخص پاتا ہے جو دلائل پر غور کرتا ہو۔ وہ سچائی کو جاننے کے معاملہ میں سنجیدہ ہو۔ وہ مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر رائے قائم کرتا ہو۔ وہ ظاہری چیزوں میں الجھ کر نہ رہ گیا ہو بلکہ ظاہری چیزوں کے پیچھے چھپی ہوئی باطنی حقیقت کو جاننے کا حریص ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page