موت کے اس پار
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۹
اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہئے۔ اور جو ایمان والے ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب کو دیکھیں گے کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔ جب کہ وہ لوگ جن کے کہنے پر دوسرے چلتے تھے ان لوگوں سے الگ ہو جائیں گے جو ان کے کہنے پر چلتے تھے۔ عذاب ان کے سامنے ہوگا اور ان کے سب طرف کے رشتے ٹوٹ چکے ہوں گے۔ وہ لوگ جو پیچھے چلے تھے کہیں گے کاش ہم کو دنیا کی طرف لوٹنا مل جاتا تو ہم بھی ان سے الگ ہو جاتے جیسے یہ ہم سے الگ ہو گئے۔ اس طرح اللہ ان کے اعمال کو انھیں حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ آگ سے نکل نہ سکیں گے ۱۶۷-۱۶۵ آدمی اپنی فطرت اور اپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ ایک خارجی سہارا چاہتا ہے، ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے، اور اس کے لئے اعتماد و یقین کی بنیاد ہو۔ کسی کو اس حیثیت سے اپنی زندگی میں شامل کرنا اس کو اپنا معبود بنانا ہے۔ جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے محبت و عقیدت کے جذبات اس کے لئے خاص ہو جاتے ہیں۔ آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ کسی سے حُبّ شدید کرے، اور جس سے کوئی حب شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔ موجودہ دنیا میں چوں کہ خدا نظر نہیں آتا اس لئے ظاہر پرست انسان عام طور پر نظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتا ہے جو دراصل خدا کو دینا چاہئے۔ یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یا پیشوا ہوتے ہیں جو کسی ظاہری خصوصیت کی بنا پر لوگوں کا مرجع بن جاتے ہیں۔ آدمی کی فطرت کا خلا جو حقیقتہً اس لئے تھا کہ اس کو رب العالمین سے پُر کیا جائے وہاں وہ کسی سردار یا پیشوا کو بٹھا لیتا ہے۔
ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ کسی انسان کے گرد کچھ ظاہری رونق دیکھ کر لوگ اس کو ”بڑا“ سمجھ لیتے ہیں۔ کوئی اپنے غیر معمولی شخصی اوصاف سے لوگوں کو متاثر کر لیتا ہے۔ کوئی کسی گدی پر بیٹھ کر سیکڑوں سال کی روایات کا وارث بن جاتا ہے۔ کسی کے یہاں انسانوں کی بھیڑ دیکھ کر لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ وہ عام انسانوں سے بلند تر کوئی انسان ہے۔ کسی کے گرد پُر اسرار کہانیوں کا ہالہ تیار ہو جاتا ہے اور سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ غیر معمولی قوتوں کا حامل ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا کی اس کائنات میں خدا کے سوا کسی کو کوئی زور یا بڑائی حاصل نہیں۔ انسان کو خدا کا درجہ دینے کا کاروبار اسی وقت تک ہے، جب تک خدا ظاہر نہیں ہوتا۔ خدا کے ظاہر ہوتے ہی صورت حال اس قدر بدل جائے گی کہ بڑے اپنے چھوٹوں سے بھاگنا چاہیں گے اور چھوٹے اپنے بڑوں سے۔ وہ وابستگی جس پر آدمی دنیا میں فخر کرتا تھا، جس سے وفاداری اور شیفتگی دکھا کر آدمی سمجھتا تھا کہ اس نے سب سے بڑی چٹان کو پکڑ رکھا ہے وہ آخرت کے دن اس طرح بے معنی ثابت ہوگی جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہ ہو۔ آدمی اپنی گزری ہوئی زندگی کو حسرت کے ساتھ دیکھے گا اور کچھ نہ کر سکے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues