Al-Risala · November 1979 · page 40

موت کے اس پار

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۰

لوگو! زمین کی چیزوں میں سے حلال اور ستھری چیزیں کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر مت چلو، بے شک وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ وہ تم کو صرف برے کام اور بے حیائی کی تلقین کرتا ہے اور اس بات کی کہ تم اللہ کی طرف وہ باتیں منسوب کرو جن کے بارے میں تم کو کوئی علم نہیں۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس پر چلو جو اللہ نے اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی کہ ان کے باپ دادا نہ عقل رکھتے ہوں اور نہ سیدھی راہ جانتے ہوں۔ اور ان منکروں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسے جانور کے پیچھے چلا رہا ہو جو بلانے اور پکارنے کے سوا اور کچھ نہیں سنتا۔ یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں۔ وہ کچھ نہیں سمجھتے ۱۷۱ - ۱۷۸ شرک کیا ہے، جذباتِ عبودیت کی تسکین کے لئے خدا کے سوا کوئی دوسرا مرکز بنا لینا۔ خدا انسان کی سب سے بڑی اور لازمی ضرورت ہے۔ خدا کی طلب انسانی فطرت میں اس طرح بسی ہوئی ہے کہ کوئی شخص خدا کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انسان کی گم راہی خدا کو چھوڑنا نہیں ہے بلکہ اصلی خدا کی جگہ کسی فرضی خدا کو اپنا خدا بنا لینا ہے۔ اس لئے شریعت میں ہر اس چیز کو حرام قرار دیا گیا ہے جو کسی بھی درجہ میں آدمی کی فطری طلب کو اللہ کے سوا کسی اور طرف موڑ دینے والی ہو۔

بت پرست قومیں بتوں کے نام پر جانور چھوڑتی ہیں اور ان جانوروں کو کھانا یا ان سے نفع اٹھانا حرام سمجھتی ہیں۔ جدید تہذیب میں بھی یہ رسم "قومی پرند" اور "قومی جانور" جیسی صورتوں میں رائج ہے۔ اس طرح کسی چیز کو اپنے لئے حرام کر لینا محض ایک سادہ قانونی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ کیوں کہ جب ایک چیز کو اس طرح حرام ٹھہرایا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کسی خود ساختہ عقیدہ کی وجہ سے اس کو مقدس سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ خدا کے حقوق میں غیر خدا کو ساجھی بنانا ہے، یہ احترام و تقدس کے ان فطری جذبات کو تقسیم کرنا ہے جو صرف خدا کے لئے ہیں اور جن کو صرف خدا ہی کے لئے ہونا چاہئے۔ شیطان اس قسم کے رواج اس لئے ڈالتا ہے تاکہ آدمی کے اندر چھپے ہوئے استجاب و تقدس کے جذبات کو مختلف سمتوں میں بانٹ کر اللہ کے ساتھ اس کے تعلق کو کمزور کر دے۔

ایک بار جب کسی غیر اللہ کو مقدس مان لیا جائے تو انسان کی توہم پرستی اس میں نئی نئی برائیاں پیدا کرتی رہتی ہے۔ ایک "جانور" کو ان پر اسرار اوصاف کا حامل گمان کر لیا جاتا ہے جو صرف خدا کے لئے خاص ہیں۔ اس کو خدا کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس سے برکت اور کار برآری کی امید کی جاتی ہے۔ یہ چیز جب اگلی نسلوں تک پہنچتی ہے تو وہ اس کو آبا و اجداد کی مقدس سنت سمجھ کر اس طرح پکڑ لیتی ہیں کہ اب اس پر کسی قسم کا غور وفکر ممکن نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ لوگ دلیل کی زبان سمجھنے سے اتنا زیادہ عاری ہو جاتے ہیں گویا کہ ان کے پاس نہ آنکھ اور کان ہیں جن سے وہ دیکھیں اور سنیں اور نہ ان کے پاس دماغ ہے جس سے وہ کسی بات کو سمجھیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page