موت کے اس پار
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۱
اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی پاک چیزوں کو کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی عبادت کرنے والے ہو۔ اللہ نے تم پر حرام کیا ہے صرف مردار کو اور خون کو اور سور کے گوشت کو۔ اور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہو جائے، وہ نہ خواہش مند ہو اور نہ حد سے آگے بڑھنے والا ہو تو اس پر کوئی گناہ ن۔ بے شک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ جو لوگ اس چیز کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں اتاری ہے اور اس کے بدلے میں تھوڑا مول لیتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں صرف آگ بھر رہے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ نہ ان سے ہم کلام ہو گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کا سودا کیا اور بخشش کے بدلے عذاب کا، تو کیسی سہا رہے ہیں ان کو آگ کی۔ یہ اس لئے کہ اللہ نے اپنی کتاب کو ٹھیک ٹھیک اتارا، مگر جن لوگوں نے کتاب میں کُئی راہیں نکال لیں وہ ضد میں دور جاپڑے ۔ ۱۷۲-۱۷۴ کھانے پینے کی چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے جو احساسات آدمی کے اندر ابھرنے چاہئیں وہ تشکر اور اطاعت الہی کے احساسات ہیں۔ یعنی یہ کہ "ہم اللہ کی دی ہوئی چیز کو اللہ کے حکم کے مطابق کھا رہے ہیں" یہ احساس آدمی کے اندر خدا پرستی کا جذبہ ابھارتا ہے۔ مگر خود ساختہ طور پر جو عقیدے بنائے جاتے ہیں اس میں یہ نفسیات بدل جاتی ہیں۔ اب انسان کی توجہ چیزوں کے مفروضہ خواص کی طرف لگ جاتی ہے ۔ جن چیزوں کو پا کر اللہ کے شکر کا جذبہ ابھرتا ان سے خود ان چیزوں کے احترام و تقدس کا جذبہ ابھرتا ہے۔ آدمی مخلوق کو خالق کا درجہ دے دیتا ہے کسی چیز کے حرام ہونے کی بنیاد اس کا مفروضہ تقدس یا اس کے بارے میں توہماتی عقائد نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے اسباب بالکل دوسرے ہیں۔ یہ کہ وہ چیزیں ناپاک ہوں اور شریعت نے ان کی ناپاکی کی تصدیق کی ہو۔ جیسے مردار ، خون، سور۔ یا خدا کے پیدا کئے ہوئے جانور کو خدا کے سوا کسی اور نام پر ذبح کرنا، وغیرہ۔ اضطرار کی حالت میں آدمی حرام کو کھا سکتا ہے۔ جبکہ بھوک یا بیماری یا حالات کا کوئی دباؤ آدمی کو اس کے استعمال پر مجبور کر دے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ آدمی حرام چیز کو رغبت سے نہ کھائے اور نہ اس کو واقعی ضرورت سے زیادہ لے۔
اس قسم کے توہماتی عقائد جب عوامی مذہب بن جائیں تو علماء کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اس کے بارے میں اللہ کا حکم جانتے ہوئے بھی وہ اس کے اعلان سے ڈرنے لگتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس طرح وہ عوام سے کٹ جائیں گے جن کے درمیان مقبولیت حاصل کر کے وہ "بڑے" بنے ہوئے ہیں۔ گم راہ عوام سے مصلحت اگرچہ دنیا میں ان کو عزت اور دولت دے دیتی ہے مگر اللہ کی نظر میں ایسے لوگ بد ترین مجرم ہیں۔ حق کو مصلحت کی خاطر چھپانا ان لغزشوں میں نہیں ہے جن سے آخرت میں اللہ درگزر فرمائے گا۔ یہ وہ جرائم ہیں جو آدمی کو اللہ کی نظر عنایت سے محروم کر دیتے ہیں۔ ان میں بھی زیادہ برے وہ لوگ ہیں جن کے سامنے حق پیش کیا جائے اور وہ اعتراف کرنے کے بجائے اس میں بے معنی بحثیں نکالنے لگیں۔ ایسے لوگوں کے اندر ضد کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے اور بالآخر وہ حق سے اتنا دور ہو جاتے ہیں کہ کبھی اس کی طرف نہیں لوٹتے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues