Al-Risala · November 1979 · page 42

موت کے اس پار

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۲

نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ پورب اور پچھم کی طرف کرو۔ بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتاب پر اور پیغمبروں پر۔ اور مال دے اللہ کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں۔ اور نماز قائم کرے اور زکواۃ ادا کرے اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور صبر کرنے والے سختی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت یہی لوگ ہیں جو سچے نکلے اور یہی ہیں ڈر رکھنے والے ١۷۷ یہود نے مغرب کو اپنا قبلہ عبادت بنایا تھا اور نصاریٰ نے مشرق کو۔ دونوں اپنی اپنی سمت کو مقدس سمجھتے تھے ۔ دونوں کو بھروسہ تھا کہ انھوں نے خدا کی مقدس سمت کو اپنا قبلہ بنا کر خدا کے یہاں اپنا درجہ محفوظ کر لیا ہے۔ مگر خدا پرستی یہ نہیں ہے کہ آدمی کسی مقدس ستون کو تھام لے۔ خدا پرستی یہ ہے کہ آدمی خود اللہ کے دامن کو پکڑ لے۔ دینی عمل کی اگر چہ ایک ظاہری صورت ہوتی ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ اس اللہ کو پالینا ہے جو زمین و آسمان کا نور ہے، جو آدمی کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ اللہ کے یہاں جو چیز کسی کو مقبول بناتی ہے وہ کسی قسم کی ظاہری چیزیں نہیں بلکہ وہ عمل ہے جو آدمی اپنے پورے وجود کے ساتھ خالص اللہ کے لئے کرتا ہے۔ اللہ کا مقبول بندہ وہ ہے جو اللہ کو اس طرح پالے کہ اللہ اس کی پوری ہستی میں اتر جائے۔ وہ آدمی کے شعور میں شامل ہو جائے۔ وہ اس کی کمائیوں کا مالک بن جائے۔ وہ اس کی یادوں میں سما جائے۔ وہ اس کے کردار پر چھا جائے۔ آدمی اپنے رب کو اس طرح پکڑ لے کہ سخت ترین وقتوں میں بھی اس کی رسی اس کے ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔ اللہ کا حق اس کی سچی وفاداری سے ادا ہوتا ہے نہ کہ محض ادھر یا ادھر رخ کر لینے سے۔

اللہ پر ایمان لانا یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اپنا سب کچھ بنالے۔ آخرت کے دن پر ایمان یہ ہے کہ آدمی دنیا کے بجائے آخرت کو زندگی کا اصل مسئلہ سمجھنے لگے۔ فرشتوں پر ایمان یہ ہے کہ وہ خدا کے ان کارندوں کو مانے جو خدا کے حکم کے تحت دنیا کا انتظام چلا رہے ہیں۔ کتاب پر ایمان یہ ہے کہ آدمی یہ یقین کرے کہ اللہ نے انسان کے لئے اپنا ہدایت نامہ بھیجا ہے جس کی اسے لازماً پابندی کرنی ہے۔ پیغمبروں پر ایمان یہ ہے کہ اللہ کے ان بندوں کو اللہ کا نمائندہ تسلیم کیا جائے جن کو اللہ نے اپنا پیغام پہنچانے کے لئے چُنا۔ پھر یہ ایمانیات آدمی کے اندر اتنی گہری اتر جائیں کہ وہ اللہ کی محبت اور شوق میں اپنا مال ضرورت مندوں کو دے اور انسانوں کو مصیبت سے چھڑائے۔ نماز قائم کرنا اللہ کے آگے ہمہ تن جھک جانا ہے۔ زکواۃ ادا کرنا اپنے مال میں خدا کے مستقل حصہ کا اقرار کرنا ہے۔ ایسا بندہ جب کوئی عہد کرتا ہے تو اس کے بعد وہ اس سے پھرنا نہیں جانتا۔ کیوں کہ وہ ہر عہد کو خدا سے کیا ہوا عہد سمجھتا ہے۔ اس کو اللہ کے اوپر اتنا بھروسہ ہو جاتا ہے کہ تنگی اور مصیبت ہو یا جنگ کی نوبت آجائے ، ہر حال میں وہ خدا پرستی کے راستہ پر جما رہتا ہے۔ یہ اوصاف جس کے اندر پیدا ہو جائیں وہی سچا مومن ہے اور سچا مومن اللہ سے اندیشہ رکھنے والا ہوتا ہے نہ کہ کسی جھوٹے سہارے پر اعتماد کرکے اس سے نڈر ہو جانے والا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page