Al-Risala · February 1979 · page 5

دوسروں سے پہلے اپنے کو جاننے کی ضرورت

الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۵

کے اہم مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں “ روداد دار العلوم دیوبند ۱۳۳۰ھ (۱۹۱۴ء)

اوپر کے دونوں اقتباسات موجودہ صدی کے آغاز سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں ایسے مفکرین موجود تھے جنہوں نے مسلمانوں کو وقت کی دو اہم ضرورتوں کی طرف توجہ دلائی، انہوں نے بتایا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو چیز طاقت ور بنائے گی وہ جنگ وجدال نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ مسلمان ایک طرف جدید اقتصادی قوتوں پر قبضہ کریں، دوسری طرف اسلام کی توسیع واشاعت کے لئے خاموش جدوجہد کریں۔ یہ دونوں کام اسی حالت میں ہو سکتے تھے جب کہ مسلمان سیاسی اور غیر سیاسی جھگڑوں سے بچ کر خالص تعمیری انداز میں ان کے لئے مصروف ہوتے۔ مگر جھگڑے کی سیاست میں ہماری بڑھی ہوئی دلچسپی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم کو اس قسم کے خاموش تعمیری کام کی طرف رغبت ہی نہ ہوسکی۔ ہم نے کام کی پوری ایک بہترین صدی صرف بے معنی قسم کی سیاست میں گزار دی۔ اور اب جب کہ ہم اپنی اس غفلت کی وجہ سے دوسرے انسانی قافلوں سے بچھڑ گئے ہیں، ہم نے اپنے لئے ایک اور مشغلہ تلاش کر لیا ہے : اپنے پچھڑے پن کا الزام دوسروں کو دے کر ان کے خلاف فریاد واحتجاج کرنا۔ ہم کو آج بھی نہ اپنی غلطی کا احساس ہے اور نہ دوبارہ اپنی غلطی کی تلافی کرنے کا۔

دوسروں سے پہلے اپنے کو جاننے کی ضرورت

اگست ۱۹۷۱ء میں راقم الحروف کو احمد آباد جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک کارخانہ دار اپنا کارخانہ دکھانے کے لئے لے گئے۔ یہ ایک نوجوان تھے ۔ انھوں نے انجینئرنگ کی ڈگری لی تھی اور اب اپنے والد کے قائم کئے ہوئے کارخانہ کو سنبھالنے اور اس کو ترقی دینے میں لگے ہوئے تھے۔

"اپنی تو (Limitations) آجاتی ہیں مینجمنٹ سائیڈ پر"، انھوں نے کہا "میں ایک انجینئر ہوں۔ مگر بزنس مینجمنٹ موجودہ زمانہ میں ایک مستقل سبجکٹ ہو چکا ہے۔ انجینئرنگ میں اپنی واقفیت کے باوجود مینجمنٹ کے معاملہ میں میں اپنے کو معذور پاتا ہوں۔ مجھے ایک ٹرینڈ منیجر کی تلاش ہے جو انتظامی معاملات میں میرا مددگار بن سکے “۔ اپنے دنیوی کاروبار میں لوگ اپنی محدودیت کو خوب جانتے ہیں۔ کوئی یہ غلطی نہیں کرتا کہ کام کے جس شعبہ سے وہ واقف نہیں ہے ، اس میں کود پڑے اور بالآخر نقصان اٹھائے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ملت کی رہنمائی کے میدان میں کوئی اس اصول کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ ہر آدمی جو کچھ تقریر کرنا جانتا ہو، فوراً قیادت کے اسٹیج پر ظاہر ہو کر خدمت قوم کا کریڈٹ لینا شروع کر دیتا ہے۔ خواہ اس کی قیادت عملاً قوم کو بربادی کے گڑھے میں گرانے کے ہم معنی کیوں نہ بن جائے۔ حتی کہ یہ نتائج اگر اس کی آنکھوں کے سامنے آجائیں تب بھی اس کے جوش قیادت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ وہ نئے نئے الفاظ بول کر دوبارہ قوم کے کندھے پر سوار ہو جاتا ہے۔ موت کے سوا کوئی چیز نہیں جو اس کو اعتراف شکست پر مجبور کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues

Printed page