یہ محکم نظام
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۶
یہ محکم نظام
خلا میں بے شمار ستارے ہر وقت گردش کرتے رہتے ہیں۔ مگر ان میں ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اگر خلا کا ایک کرہ دوسرے کرہ سے ٹکرا جائے تو زبردست تباہی برپا ہو ۔ چاند انتہائی چھوٹا ہے۔ اس کی حقیقت عظیم خلا میں ایک ذرہ کے برابر بھی نہیں۔ پھر وہ ہماری زمین سے سب سے قریب ہے۔ اس کے باوجود وہ زمین سے نہیں ٹکراتا۔ جب کہ انسانی ساخت کے مصنوعی سیارے برابر اپنی عمر ختم کر کے زمین پر گرتے رہتے ہیں۔
چاند کا وزن ۷۳ کروڑ کھرب ٹن ہے۔ اس کا قطر ۳۵۰۰ کلومیٹر ہے اور زمین سے اس کا فاصلہ ۳ لاکھ ۸۴ ہزار کلومیٹر ہے۔ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور چاند زمین کے گرد۔ یہ سلسلہ اربوں سال سے جاری ہے۔ مگر ان کا نظام اتنا محکم ہے کہ وہ نہایت صحت کے ساتھ اپنے مدار پر باقی ہے۔ چاند کو زمین کی مقناطیسی قوت اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مگر خود چاند کی حرکت کی قوت اس کو مسلسل زمین سے دور ہٹاتی ہے۔ کشش اور حرکت کی ان قوتوں کے باہمی عمل کے نتیجہ میں چاند کا راستہ ایک لمبے بیضاوی مدار کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ تمام آسمانی اجسام اسی طرح بیضاوی مدار میں گھومتے رہتے ہیں۔
اگر چاند اپنے مدار کو چھوڑ کر زمین پر گرنے لگے تو اس وقت اس کی رفتار گیارہ کلومیٹر فی سیکنڈ سے زیادہ ہوگی۔ اس تیز رفتاری سے جب وہ ہماری زمین سے ٹکرائے گا تو یہ اس سے بھی زیادہ بڑا حادثہ ہوگا جو دنیا کے تمام بموں کے یکبارگی پھٹ جانے سے ہو سکتا ہے۔
بربادی ترقی کا زینہ بن گئی
ایک انگریز عالم مسٹر آئن نیش (Ian Nish) جاپان گئے۔ انھوں نے وہاں گیارہ سال رہ کر جاپانی زبان سیکھی اور گہرائی کے ساتھ جاپانی قوم کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے مطالعہ اور تحقیق کے نتائج ۴۴۸ صفحات کی ایک کتاب میں شائع کیا ہے جس کا نام ہے جاپان کی کہانی (The Story of Japan) مصنف لکھتے ہیں: جاپانی قوم کی زندگی کو جس چیز نے سب سے زیادہ گہرائی کے ساتھ متاثر کیا وہ سیاست نہیں بلکہ کانٹو کا عظیم زلزلہ تھا۔ یکم ستمبر ۱۹۲۳ کو زلزلہ کے زبردست جھٹکوں نے مشرقی جاپان کو تہس نہس کر دیا جو کہ جاپان کا سب سے زیادہ آباد علاقہ تھا۔ دوسرا انسانی ساخت کا زلزلہ ۱۹۴۵ میں جاپان کی شکست تھی جب کہ دو ایٹم بموں نے جاپان کے دو انتہائی بڑے شہروں کو ملبہ کا ڈھیر بنا دیا "زلزلہ" سے اگر تعمیر نو کا ذہن پیدا ہو تو زلزلہ ایک نئی ترقی کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس زلزلہ اگر محرومی اور جھنجھلاہٹ کا احساس پیدا کرے تو اس کے بطن سے سیاسی چیخ پکار وجود میں آتا ہے جو نتیجہ کے اعتبار سے اتنا بے معنی ہے کہ اس سے زیادہ بے معنی کوئی چیز نہیں۔ (۲۱ جولائی ۱۹۷۲)
۱ - سال دسمبر ۱۹۷۹
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues