ایمان بالغیب
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۷
ایمان بالغیب
درخت کیا ہے۔ قدرت کا ایک عظیم الشان کارخانہ ۔ انسانی کارخانے مزدوروں کے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ درخت میں کھرب ہا کھرب کی تعداد میں بیکٹیر یا رات دن کام کرتے ہیں۔ بے شمار تعداد میں پر دار کیڑے اس کی تلقيح (Pollination) کے عمل میں مشغول رہتے ہیں۔ مگر محنت کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے کار خانے شور اوپر دھواں اگلتے ہیں۔ پانی اور فضا کو گندہ کرتے ہیں۔ مگر درخت کا کارخانہ اس کے بالکل بر عکس زمین کو خاموش حسن عطا کرتا ہے۔ وہ خراب ہوا (کاربن) کو خود لے کر عمدہ ہوا ( آکسیجن ) ہماری طرف لوٹا دیتا ہے۔ اس طرح حیرت انگیز اہتمام کے تحت ایک درخت بنتا ہے۔ بے شمار قسم کی ضمنی پیداوار کے علاوہ اس پر خوشنما پھول کھلایا جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر پھل نکلتا ہے۔ ساری کائنات اس کو بڑھانے میں لگ جاتی ہے، اس کے اندر کمال کاریگری کے ساتھ غذا کا ذخیرہ جمع کیا جاتا ہے۔ پھر اس کو ایک قیمتی ڈھکن (چھلکے ) میں پیک کیا جاتا ہے۔ اس کے اور رنگ چھڑکا جاتا ہے۔ خوشبو ڈالی جاتی ہے۔ مزہ پیدا کیا جاتا ہے ۔ اور بالا خر نہایت اعلیٰ درجے کی ڈبہ بند غذائی صورت میں اس کو انسان کے لئے ٹپکا دیا جاتا ہے ۔
اسی طرح بے شمار قسم کے پھل ، ترکاریاں، غلے، گوشت، دودھ ، شہد وغیرہ کائنات کی اہتمام کے ساتھ رات دن انسان کے لئے تیار کئے جارہے ہیں۔ مگر حضرت مسیح کے حواریوں نے جب یہ کہا کہ ہمارے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالی آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتارے تو جواب ملا کہ اگر تمھارے اس قسم کے مطالبہ پر خوان اتارا گیا تو تم سخت ترین آزمائش میں پڑ جاؤ گے ۔ کیوں کہ اس کے بعد اگر تم نے ناشکری کی تو تم کو اتنا سخت عذاب دیا جائے گا جو کسی کو بھی نہ دیا گیا ہو (مائدہ (۱۱۵)
کیا وجہ ہے کہ عام حالات میں ہر وقت خدا کی طرف سے بے شمار تعداد میں غذا فراہم کی جارہی ہے۔ مگر انھوں نے ایک بار آسمان سے غذا اتارنے کو کہا تو ان کو اتنا سخت انتباہ دیا گیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزانہ جو غذا ئیں اتر رہی ہیں وہ اسباب کے پردے میں اتر رہی ہیں۔ جب کہ حواریوں کا مطالبہ یہ تھا کہ اسباب کے پردہ کو ہٹا کر برہنہ انداز میں ان کے لئے غذا اتاری جائے ۔ اس قسم کا واقعہ امتحان کی اس پوری اسکیم کو ختم کر دیتا ہے جس کے تحت انسان کو اس دنیا میں رکھا گیا ہے۔ اسی لئے حواریوں کے مطالبہ پر حضرت مسیح نے فرمایا: اتقوا الله ان كنتم مومنين (مائدہ (۱۱۲) اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو یعنی ایمان تو یہ ہے کہ بغیر دیکھے یقین کرو۔ جب تم کو دکھا دیا جائے تو اس کے بعد ایمان کی کیا قیمت ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں بندے کا سارا معاملہ غیب کا معاملہ ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ غیب کو نہیں کھولتا (آل عمران (۱۷۹) یہاں ہدایت کی شرط یہ ہے کہ آدمی حالت غیب میں ایمان لانے کے لئے تیار ہو (بقره (۳) وہ غیب میں رہتے ہوئے اللہ سے ڈرے (ق (۳۳) غیب کی جنت انھیں لوگوں کے لئے ہے جو غائبانہ طور پر اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues