ایمان بالغیب
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۱
یقین کریں (مریم (۶۱) اللہ کے دین کی نصرت وہی معتبر ہے جو غیب میں رہ کر کی جائے (حدید ۲۵) اس طرح فاتحانہ طور پر ایمان کا ثبوت دینے والوں ہی کے لئے خدا کے یہاں بخشش ہے اور عظیم مرتبے اور انعامات ہیں (ملک ۱۲) حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سارا امتحان اسی بات کا ہے کہ کون حالت غیب میں مومن بنتا ہے اور کون حالت شہود میں۔ جو لوگ شہود (حقائق کے کھل جانے کے بعد) مومن بنیں، ان کے ایمان کی کوئی قیمت اللہ کے نزدیک نہیں (یونس ۹۱) مومن دراصل وہی ہیں جو غیب کا پردہ پھٹنے سے پہلے غیب کی باتوں کو مان لیں۔ جو شخص خدا کی عظمتوں میں اپنا حصہ پانا چاہتا ہے اس کو خدا پر اس وقت یقین کرنا ہے جب کہ ابھی وہ غیب میں ہے۔ اس کو اس آخرت کے لئے جینا ہے جس کو اس نے دیکھا نہیں۔ اس کو دنیا کی ان عظمتوں کا اعتراف کرنا ہے جس میں اس کو حصہ نہیں دیا گیا۔ اس کو ان ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے جس کا فائدہ موجودہ زندگی میں نہیں ملتا۔ اس کو ان داعیانِ حق کا ساتھ دینا ہے جن کے داعی حق ہونے کی گواہی دینے کے لئے ابھی فرشتے ظاہر نہیں ہوئے۔ اس کو ایک ایسی چیز کو اپنی منزل بنا کر سفر کرنا ہے جو موجودہ دنیا میں کبھی نہیں آتی۔
اس امتحان کا سب سے نازک پہلو اللہ کے داعی کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا ہے۔ اللہ کا داعی اپنے زمانہ میں ایک ”چھپی ہوئی حقیقت“ ہوتا ہے۔ اللہ اپنی بے آمیز دعوت کے اعلان کے لئے جس شخص کا انتخاب کرتا ہے وہ ہمیشہ ایک ایساشخص ہوتا ہے جس کے ساتھ دنیوی عظمتیں جمع نہ ہوئی ہوں۔ دنیوی عظمتیں جہاں ختم ہو جائیں وہاں سے حق کو پانے کا آغاز ہوتا ہے۔ اس لئے مخاطبین دعوت کو اس امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے کہ وہ ایک ایسی عظمت کو پہچان لیں جو ظاہری عظمتوں سے خالی ہو کر ان کے سامنے آئی ہے۔ وہ ایک ایسے انسان میں خدا کے ظہور کو دیکھ لیں جو چھپے ہوئے خدا کی تجلیاں لئے ہوئے ہے مگر دکھائی دینے والے انسانوں کی تجلیات سے خالی ہے۔ دنیوی عظمتیں ہمیشہ ایسے لوگوں کے حصہ میں آتی ہیں جو اپنی ساری طاقت دنیا کمانے میں لگا دیتے ہیں۔ جن کے اتفاقی حالات ان کو تاریخی گدیوں میں سے کسی گدی پر پہنچا دیتے ہیں۔ جو مروجہ آوازوں میں آواز ملا کر عوامی قیادت حاصل کر لیتے ہیں۔ جو حکومتی منصب یا سیاسی اقتدار کے مالک بن جاتے ہیں، مگر اس قسم کی چیز کسی کو بے آمیز سچائی سے محرومی کی قیمت پر ملتی ہیں، ایسے لوگ ہمیشہ اس لطیف نفسیات سے خالی ہوتے ہیں جس کے اندر خدا کا فیضانِ ہدایت اترے، اس لئے ایسے لوگ کبھی وہ شخص نہیں بنتے جن کو خدا اپنی نمائندگی کے لئے چُنے اور ان کے ذریعہ سے اپنے دین کا اعلان کرائے۔
تاریخ کے ہر دور میں پیغمبروں کو جھٹلایا گیا اور یہ جھٹلانے والے ہمیشہ وہ لوگ تھے جو اپنے کو دین خداوندی کا علم بردار سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ ان لوگوں نے وقت کے اُن دینی پیشواؤں کا دامن پکڑ رکھا تھا جو عظمت کی گدیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ نعمتوں والے دین میں خدا کو پا کر مطمئن تھے۔ حالاں کہ خدا جہاں ان کو اپنے سایہ رحمت میں لینے کے لئے پکار رہا تھا وہ دین وہ تھا جو ظاہری نعمتوں اور رونقوں سے خالی تھا۔ وہ اس یقین میں تھے کہ انھوں نے خدا کا مضبوط دامن پکڑ رکھا ہے، حالاں کہ ان کے ہاتھ میں فرضی خوش خیالیوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues