Al-Risala · December 1979 · page 12

اسلام کا سرچشمہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۲

اسلام کا سرچشمہ

جس طرح آگ لگنے سے تیں بھڑک اٹھتا ہے اسی طرح انسانی کارروائیوں کے پیچھے بھی کوئی آگ ہوتی ہے جو اس کی شخصیت کو بھڑکا دیتی ہے اور اس کے اندرون کو مختلف شکلوں میں باہرلاتی ہے۔ فرد کی دوڑ دھوپ ہو یا کسی جماعت اور تحریک کی سرگرمیاں، دونوں کسی خاص محرک کے تحت ابھرتی ہیں اور اسی محرک کے بل پر چلتی رہتی ہیں۔ عمومی مطالعہ بتاتا ہے کہ افراد کو ضروریات زندگی کے تقاضے متحرک کرتے ہیں اور جماعتوں کو سیاسی حالات کے تقاضے ۔ ایک عام آدمی سب سے پہلے جس مسئلہ سے دوچار ہوتا ہے وہ معاش کا مسئلہ ہے اور معاش کا مسئلہ حل ہو جائے تو ماحول کے اندر عزت کا مقام حاصل کرنے کا مسئلہ۔ عام انسان کی دوڑ دھوپ عموماً انھیں چیزوں کے گرد گھومتی ہے۔ وہ اپنی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے یا سماج کے اندر اونچی حیثیت کو پانے کے لئے سرگرم رہتا ہے ۔ اس کے تعلقات، اس کا لین دین، اس کی دوستی اور دشمنی سب اسی ایک چیز کے تابع ہو جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ اس کی شرافت اور اخلاق بھی۔ وہ ایسے مواقع پر خوب شرافت اور اخلاق دکھاتا ہے جہاں اس کے مذکورہ ذاتی مفادات کے تقاضے پورے ہوتے ہوں اور جہاں مفاد کا کوئی پہلو نہ ہو وہاں وہ ایسا بن جاتا ہے جیسے اس کو شرافت اور اخلاق سے کوئی واسطہ نہیں، ایسے مواقع پر وہ اخلاق، انصاف، علمی دیانت داری تک کو بھول جاتا ہے۔ جماعتوں کو عام طور پر جو چیز متحرک کرتی ہے وہ ان کے گرد و پیش کے سیاسی حالات ہیں۔ ایک قوم دوسری قوم کے اوپر قابض ہو گئی۔ ایک گروہ نے دوسرے گروہ کی زمین پر قبضہ کر لیا۔ ایک فرقہ اپنی بہتر پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر دوسرے فرقہ پر ظلم کرنے لگا۔ اسی قسم کے حالات ہیں جنہوں نے ہماری تحریکوں اور جماعتوں کو جنم دیا ہے۔ وہ کسی نہ کسی سیاسی حالات کے رد عمل میں اٹھی ہیں۔ البتہ اپنے اپنے مزاج کے لحاظ سے ہر ایک الگ الگ الفاظ بول رہا ہے کوئی اپنی رد عمل کی تحریک کو سیکولراصطلاحات میں بیان کر رہا ہے۔ کوئی اخلاق اور انسانیت کے نام پر اپنی اہمیت ثابت کر رہا ہے۔ کوئی دین اور مذہب کے الفاظ میں اپنے پروگرام کی تشریح کر رہا ہے۔ اگر چہ ظاہری طور پر ان میں بہت سے فرق بھی ہیں۔ مگر ابتدائی محرک کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں۔

حقیقی اسلامی شخصیت یا حقیقی اسلامی تحریک ان سب سے بالکل مختلف چیز ہے۔ وہ کسی سیاسی یا غیر سیاسی رد عمل کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوتی۔ وہ خدا کی لامحدود تجلیات سے ربط کی پیداوار ہوتی ہے۔ وہ فطرت کے مثبت سرچشمہ سے ابتی ہے۔ وہ آخرت کی ابدی دنیا کی تعمیر کے لئے حرکت میں آتی ہے۔ وہ ابدیت سے اتصال کا ظہور ہوتی ہے نہ کہ وقتی سیاست کاردعمل۔ عام تحریکوں کی غذا سیاسی حالات میں ہوتی ہے اور حقیقی اسلامی تحریک کی غذا خدا اور فرشتوں کی سرگرمیوں میں۔ عام تحریکیں سیاسی ہنگاموں پر زندہ رہتی ہیں اور حقیقی اسلامی تحریک خدا کی خاموش کائنات کے اوپر۔ عام تحریکیں سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کو جدوجہد یہ سمجھتی ہیں اور حقیقی اسلامی تحریک کی جد وجہد ہے کہ وہ خدائی دنیا کے لازوال قافلہ کی ہم سفر بن جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page