جب تمام کھمبے گر جائیں گے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۳
جب تمام کھمبے گر جائیں گے
۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء کو دہلی میں ایک شدید طوفان آیا جس نے صرف تین منٹ کے اندر اتری دلی کے علاقہ کو تہس نہس کر دیا۔ مسٹر تعریف سنگھ رسول ڈیفنس انسٹرکٹر نے بتایا کہ سورج ڈوبنے سے آدھ گھنٹہ پہلے کالے بادل آئے اور بارش ہونے لگی۔ اچانک ایک سفید رنگ کا غبار تیزی سے ظاہر ہوا جس نے آناً فاناً ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ترک زمین پر اتر آیا ہو۔ اس طوفان کا زور چھ کلومیٹر کے رقبہ میں تھا۔ اندازہ ہے کہ اس تین منٹ کے طوفان میں، جانی نقصان کے علاوہ ایک کروڑ روپے کی جائداد کا نقصان ہوا۔ طوفان اتنا تیز تھا کہ اسکوٹر اور آدمی تنکے کی طرح ہوا میں تیرنے لگے بیسیں اُڑ کر کہیں سے کہیں جا ٹکرائیں۔ ۲۱ جون ۱۹۷۹ء کو اسی قسم کا مگر اس سے ہلکا طوفان آیا۔ اس طوفان کا زیادہ زور نئی دہلی کے علاقہ میں تھا۔ جہاں سنٹرل سیکریٹریٹ کے پاس پتھر کے بھاری ستون ٹوٹ کر گر گئے ۔ صفدر جنگ ہوائی اڈہ پر کھڑا ہوا ہیلی کاپٹر الٹ گیا۔ درخت اکھڑ گئے۔ ۱۲۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی آندھی کی زد میں آ کر کئی آدمی زخمی ہوئے اور دو آدمی مر گئے۔
ایسے واقعات بار بار مختلف مقامات پر ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح کائنات کا مالک اپنے بندوں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ اس دنیا کے مالک نہیں ہیں۔ اس کا مالک وہ خدا ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے۔ انسانوں کے "کھمبے" صرف اس وقت تک کھڑے ہیں جب تک خدا انہیں مہلت دئے ہوئے ہے۔ جب وہ انھیں ماہنامہ دسمبر ۱۹۷۹ء پکڑے گا تو اچانک تمام کھمبے گرے ہوئے نظر آئیں گے۔ جو ہوا آج خدا کے حکم سے ۱۲۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلی وہ اس کے حکم سے دس گنا اور بیس گنا زیادہ رفتار سے بھی چل سکتی ہے۔ جب خدا اس دنیا کو ختم کرنا چاہے گا تو اسی طرح دہ قیامت کا طوفان لائے گا۔ اس کے بعد یہ دنیا اپنی تمام تعمیرات کے ساتھ ڈھ پڑے گی۔ اس کے بعد دوسری زیادہ بہتر دنیا بنائی جائے گی۔ آج شریر انسان اور اچھے انسان ملے جلے ہیں۔ اس وقت دونوں ایک دوسرے سے الگ کر دئے جائیں گے۔ اپنے اچھے بندوں کو خدا ابدی مسرت کے باغوں میں جگہ دے گا اور شریر لوگوں کو اکٹھا کر کے جہنم کی آگ میں پھینک دے گا۔ پہلے لوگ ہر قسم کی تکلیف اور اندیشوں سے خالی ہو کر ہمیشہ کے لئے خوشیوں کی زندگی گزاریں گے اور دوسرے لوگ ہر قسم کے عذاب میں مبتلا ہو کر ہمیشہ کے لئے چیختے چلاتے رہیں گے۔ زندگی کا سفر ـ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا اولیور وینڈل ہومز نے کہا ہے :
THE YOUNG MAN KNOWS THE RULES, BUT THE OLD MAN KNOWS THE EXCEPTIONS. Oliver Wendell Holmes نوجوان شخص عموم کو دیکھتا ہے اور عمر رسیدہ آدمی استثنا کو۔ زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی اتفاقی رکاوٹ سامنے آکر ہمارے سوچے ہوئے نقشہ کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس لئے عقل مند وہ ہے جو صرف عام حالات پر بھروسہ نہ کرے بلکہ غیر متوقع امکانات کو ذہن میں رکھ کر اپنا منصوبہ بنائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues